شریعت نے حرمتوں کےاحکام کو جن وجوہ سے علل پر قائم کیا ہے، اُن میں یہ نمایاں ترین ہیں:
اولاً،انسان کی عقل و فطرت کا بدیہی تقاضا ہے کہ وہ عوامل کے محرکات اور احکام کے اسباب کو دریافت کرنا چاہتا ہے۔ وہ کسی امر کو مجرد طور پر قبول نہیں کرتا، بلکہ اُس کے پیشِ نظر مقصد یا اُس کے پیچھے کارفرما سبب کی بنا پر قبول کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کے اِس فطری تقاضے کا لحاظ کرتے ہوئے اُسے دین و شریعت کے مقاصد سے بھی آگاہ کیا ہے اور اُن کے احکام کی علتوں کو بھی واضح کیا ہے۔ یہ آگاہی اور یہ وضوح اُس کے ایمان وعمل کے لیے ناگزیر ہے۔
ثانیاً، اللہ نے اپنی شریعت کرۂ ارض کے تمام علاقوں اورقیامت تک کے تمام زمانوں کے لیے ودیعت فرمائی ہے۔ یہ وسعت اور ابدیت اُسی صورت میں قائم و دائم ہو سکتی ہے، جب احکام کو اُن کے ظاہر پر محمول کرنےکے بجاے اُن کے علل پر محمول کیا جائے۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ مرورِ زمانہ یا حالات و مقامات کی تبدیلی سے احکام کی ظاہری صورتیں متغیر بھی ہو سکتی ہیں اور اُن میں وسعت بھی پیدا ہو سکتی ہے۔
ثالثًا،حرمتوں کی جو علتیں قرآن و حدیث میں مذکور ہیں یا اُن سے مستنبط ہیں، وہ دین کے اصل مقصد تزکیہ و تطہیر پر مبنی ہیں۔ یہ مقصد علت العلل کے طور پر اُن میں کار فرما ہے۔ چنانچہ حکم کی علت کا ادراک ہوتے ہی انسان اُس اصل مقصد کو جان لیتا ہے، جس کو حاصل کرنے کے لیے وہ حکم دیا گیا ہے۔
اِن تینوں پہلوؤں سے احکام کے علل کا تعین ضروری ہے۔ اگر ایسا نہیں کیا جائے گا تو ایک جانب شریعت کے احکام لوگوں کے لیے قابلِ فہم نہیں رہیں گے ، دوسری جانب امتدادِ زمانہ کے ساتھ اُن کا اطلاق محدود ہوجائے گا اور تیسری جانب دین کامقصد نظروں سے اوجھل رہے گا اورنتیجتاً شریعت محض امتثالِ امر قرار پائے گی۔
اِس بات کو لحم الخنزیر کی حرمت کی مثال سے سمجھ لیجیے۔ دیکھیے، اِس ضمن میں پہلا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ انعام کی نوعیت کے چوپایوں میں سے ایک چوپایے کا گوشت کیوں حرام ٹھہرایا ہے؟اِس کا جواب یہ ہے کہ اِس کا سبب اُس کے اندر درندگی کے عنصر کا پایا جانا ہے۔یعنی وہ صرف چارا کھانے والا چوپایہ نہیں ہے، بلکہ اِس کے ساتھ کتے ، بلی، شیر، چیتے کی طرح گوشت کھانے والا درندہ بھی ہے۔ درندگی کا عنصر اُسے خبائث میں شامل کر کے ناپاک بنا دیتا ہے، اِس لیے شریعت نے اُسے ممنوع ٹھہرایا ہے۔یہ جواب، ظاہر ہے کہ لوگوں کے لیے باعثِ تشفی ہے ۔ اِس کے بعد اگلا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا فقط اُس کا گوشت کھانا حرام ہے یا اُس کی کھال اور دوسرے متعلقات کا استعمال بھی ممنوع ہے؟ پھر مزید سوال یہ ہے کہ اُس کے بعض اجزا کو اگر دوا کے طور پر استعمال کیا جائے یا اُن سے جلاٹین حاصل کی جائے تو کیا اُس پر بھی حرمت کا اطلاق ہو گا؟ اِسی طرح دورِ حاضر میں یہ سوال بھی سامنے آیا ہے کہ اگر اُس کے دل کی انسانی جسم میں پیوند کاری کی جائے تو کیا شرعی طور پراُسے جائز سمجھا جائے گا؟ یہ اور اِس طرح کے بعض دوسرے سوالات، ظاہر ہے کہ تہذیب و تمدن کے معاملات میں تبدیلی سے پیدا ہوئے ہیں۔ اِن کے جواب اُس وقت تک نہیں دیے جا سکتے، جب تک یہ معلوم نہ ہو کہ سؤر کے گوشت کی حرمت کا حکم کس علت پر مبنی ہے۔