اشتراکِ علت

متعدد احادیث سے واضح ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآنِ مجید میں مذکور احکام کی علتوں کو بنیاد بنا کر بعض دیگر صورتوں پر بھی احکام کا اطلاق فرمایا ہے۔ اِس کی ایک مثال یہ ہے کہ قرآنِ مجید نے جن خواتین سے نکاح کو حرام ٹھہرایا ہے، اُن میں رضاعی مائیں اور رضاعی بہنیں بھی شامل ہیں۔سورۂ نساء میں ہے :

وَاُمَّھٰتُکُمُ الّٰتِیْٓ اَرْضَعْنَکُمْ، وَاَخَوٰتُکُمْ مِّنَ الرَّضَاعَۃِ.(4: 23)

’’اور تمھاری وہ مائیں بھی حرام ہیں جنھوں نے تمھیں دودھ پلایا اور رضاعت کے اِس تعلق سے تمھاری بہنیں بھی ۔‘‘

الفاظ سے واضح ہے کہ اِس حکم کی علت رضاعت ہے۔ مطلب یہ ہے کہ دودھ پلانے سے ایک عورت کو ماں کی تقدیس حاصل ہو جاتی ہےاور اُس سے نکاح اُسی طرح فاحشہ کے دائرے میں آ جاتا ہے، جس طرح حقیقی ماں کے ساتھ آتا ہے۔ پھر جیسے ہی اُس کو رضاعی ماں کا درجہ حاصل ہوتا ہے تو اُس کی بیٹی، یعنی دودھ شریک لڑکی بہن کا درجہ حاصل کر لیتی ہے اور اِس بنا پر حرمت کے دائرے میں داخل ہو جاتی ہے۔ قرآنِ مجید میں اتنی ہی بات بیان ہوئی ہے۔ اب دیکھیے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رضاعت کی اِسی علت کو بنیاد بنایا ہے اور رضاعی ماں کے تعلق سے قائم ہونے والے دیگر رشتوں کو بھی حرام ٹھہرا دیا ہے اور اِس امر کو بہ طورِ اصول ارشاد فرمایا ہے :

یحرم من الرضاعۃ ما یحرم من الولادۃ.(الموطا ، رقم 1887)

’’ہر وہ رشتہ جو ولادت کے تعلق سے حرام ہے، رضاعت سے بھی حرام ہو جاتا ہے۔‘‘

چنانچہ استاذِ گرامی نے لکھا ہے:

’’... اِس (رضاعی تعلق)سے وہ سب رشتے حرام ہو جاتے ہیں جو نسبی تعلق سے حرام ہوتے ہیں ۔ قرآن کا مدعا یہی ہے ، ... اِس میں دیکھ لیجیے ، رضاعی ماں کے ساتھ رضاعی بہن کو بھی حرام قرار دیا گیا ہے ۔ بات اگر رضاعی ماں ہی پر ختم ہو جاتی تو اِس میں بے شک ، کسی اضافے کی گنجایش نہ تھی ، لیکن رضاعت کا تعلق اگر ساتھ دودھ پینے والی کو بہن بنا دیتا ہے تو عقل تقاضا کرتی ہے کہ رضاعی ماں کے دوسرے رشتوں کو بھی یہ حرمت لازماً حاصل ہو۔ دودھ پینے میں شراکت کسی عورت کو بہن بنا سکتی ہے تو رضاعی ماں کی بہن کو خالہ ،اُ س کے شوہر کو باپ ، شوہر کی بہن کو پھوپھی اور اُس کی پوتی اور نواسی کو بھتیجی اور بھانجی کیوں نہیں بنا سکتی ؟ لہٰذا یہ سب رشتے بھی یقیناًحرام ہیں ۔‘‘ (میزان 416)

اِسی طرح دیکھیے کہ نکاح کی وہ حرمتیں جو قرآن نے مصاہرت کے پہلو سے بیان کی ہیں، اُن میں دو بہنوں کو ایک نکاح میں جمع کرنے کی ممانعت فرمائی ہے اور اِس کے لیے ’وَاَنْ تَجْمَعُوْا بَیْنَ الْاُخْتَیْنِ‘ کے الفاظ آئے ہیں۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ دو بہنیں اگر ایک مرد کے ساتھ بہ یک وقت رشتۂ ازدواج میں منسلک ہوں گی تو نکاح کی تقدیس مجروح ہو گی اور وہ فاحشہ کے دائرے میں چلا جائے گا۔ گویا حکم کی علت دو حقیقی رشتوں کا ایک نکاح میں اجتماع ہے۔ اب یہی صورت اُس وقت بھی پیدا ہو جاتی ہے ، جب پھوپھی اور اُس کی بھتیجی اور خالہ اور اُس کی بھانجی کو ایک نکاح میں جمع کر دیا جائے۔ اِسی بنا پر نبی صلی للہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ پھوپھی کے ساتھ بھتیجی اور خالہ کے ساتھ بھانجی کو جمع نہیں کیا جائے گا۔استاذِ گرامی نے لکھا ہے:

’’...قرآن نے ’بَیْنَ الْاُخْتَیْنِ‘ ہی کہا ہے، لیکن صاف واضح ہے کہ زن و شو کے تعلق میں بہن کے ساتھ بہن کو جمع کرنا اُسے فحش بنا دیتا ہے تو پھوپھی کے ساتھ بھتیجی اور خالہ کے ساتھ بھانجی کو جمع کرنا بھی گویا ماں کے ساتھ بیٹی ہی کو جمع کرنا ہے۔ لہٰذا قرآن کا مدعا، لاریب یہی ہے کہ ’أن تجمعوا بین الأختین وبین المرأۃ وعمتھا وبین المرأۃ وخالتھا‘۔ وہ یہی کہنا چاہتا ہے، لیکن ’بَیْنَ الْاُخْتَیْنِ‘ کے بعد یہ الفاظ اُس نے اِس لیے حذف کر دیے ہیں کہ مذکور کی دلالت اپنے عقلی اقتضا کے ساتھ اِس محذوف پر ایسی واضح ہے کہ قرآن کے اسلوب سے واقف اُس کا کوئی طالب علم اِس کے سمجھنے میں غلطی نہیں کر سکتا۔ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے:

لا یجمع بین المرأۃ وعمتھا ولا بین المرأۃ وخالتھا.

(الموطا، رقم 1600)

’’عورت اور اُس کی پھوپھی ایک نکاح میں جمع ہو سکتی ہے، نہ عورت اور اُس کی خالہ۔‘‘‘‘

(میزان 418)

ـــــــــــــــــــــــــــــ