استقرا کے ذریعے سے علت کا تعین

بعض احکام کے ساتھ اُن کی علت لفظاً مذکور نہیں ہوتی ۔ وہ اُن میں مقدر ہوتی ہے، جسے کلام کے سیاق و سباق، جملوں کے درو بست، بیان کے متعلقات و محذوفات اور حکم کی تفصیلات سے اخذ کیا جاتا ہے۔ منطق کی اصطلاح میں اِس اخذ و استنباط کو’استقرا‘ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ قرآنِ مجید میں اِس طریقے کو عدت کے حکم سے سمجھا جا سکتا ہے۔

سورۂ طلاق میں مسلمانوں کو حکم دیا ہے کہ جب اُن کے مرد اپنی بیویوں کو طلاق دیں تو اُس موقع پر عدت کا حساب کر لیں۔ ارشاد ہے:

یٰٓاَیُّھَا النَّبِیُّ اِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ فَطَلِّقُوْھُنَّ لِعِدَّتِھِنَّ وَاَحْصُوا الْعِدَّۃَ وَاتَّقُوا اللّٰہَ رَبَّکُمْ.(65:1)

’’اے نبی، تم لوگ اپنی بیویوں کو طلاق دو تواُن کی عدت کے حساب سے طلاق دو،اور عدت کا زمانہ ٹھیک ٹھیک شمار کرو، اور اللہ سے ڈرتے رہو جو تمھارا پروردگار ہے ۔‘‘

مطلب یہ ہے کہ طلاق عدت، یعنی مقررہ مدت کا حساب کر کے دینی چاہیے۔دیکھیے، اِن الفاظ میں حکم تو پوری طرح واضح ہے، مگر یہ بیان نہیں ہوا کہ اِس مدت کو مقرر کرنے کا سبب کیا ہے یا کس ضرورت کے تحت یہ ہدایت دی گئی ہے؟ اِس کو جاننے کے لیے جب ہم عدت سے متعلق جملہ احکام پر غور کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اِس کا سبب استبراے رحم ہے، یعنی اِس سے مقصود یہ ہے کہ عورت کے پیٹ کی صورتِ حال پوری طرح واضح ہو جائے اور حمل کے بارے میں کوئی اشتباہ باقی نہ رہے۔

یہ علت کیسے متعین ہوئی ہے؟ اِس کی تفصیل درجِ ذیل ہے:

1۔عام عورتوں کے لیے عدت کی مدت تین حیض مقرر فرمائی ہے۔ حیض، ظاہر ہے کہ وہ علامت ہے، جو عورت کے حاملہ ہونے یا نہ ہونے کو واضح کرتی ہے۔ارشاد ہے:

وَالْمُطَلَّقٰتُ یَتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِھِنَّ ثَلٰثَۃَ قُرُوْٓءٍ.(البقرہ 2: 228)

’’اور جن عورتوں کو طلاق دی گئی ہو، وہ اپنے آپ کو تین حیض تک انتظار کرائیں۔‘‘

2۔ عورتوں کو حکم دیا ہے کہ وہ عدت کے دوران میں حمل کو چھپانے کی کوشش نہ کریں۔ اِس ہدایت کاتعلق بھی اصلاً حمل سے ہے۔ فرمایا ہے:

وَلَا یَحِلُّ لَھُنَّ اَنْ یَّکْتُمْنَ مَا خَلَقَ اللّٰہُ فِیْٓ اَرْحَامِھِنَّ، اِنْ کُنَّ یُؤْمِنَّ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ.(البقرہ 2: 228)

’’اور اگر وہ اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتی ہیں تو اُن کے لیے جائز نہیں ہے کہ جو کچھ اللہ نے اُن کے پیٹ میں پیدا کیا ہے، اُسے چھپائیں۔“

3۔ وہ خواتین جن کے حیض کاسلسلہ منقطع ہو چکا ہے یا جو طبعی طور پر اِس سے محروم ہیں، اُن کی عدت اُس صورت میں تین ماہ مقرر کی ہے، جب مدخولہ ہونے کے باعث حمل کا احتمال پایا جاتا ہو۔ اِس میں بھی فیصلہ کن امر کی حیثیت حمل کو حاصل ہے۔ ارشاد فرمایاہے:

وَالِّٰٓیۡٔ یَئِسۡنَ مِنَ الْمَحِیْضِ مِنْ نِّسَآءِکُمْ، اِنِ ارْتَبْتُمْ، فَعِدَّتُھُنَّ ثَلٰثَۃُ اَشْھُرٍ وَّالِّٰٓیۡٔ لَمْ یَحِضْنَ.

(الطلاق 65: 4)

’’تمھاری عورتوں میں سے جو حیض سے مایوس ہو چکی ہوں، اور وہ بھی جنھیں (حیض کی عمر کو پہنچنے کے باوجود) حیض نہیں آیا، اُن کے بارے میں اگر کوئی شک ہے تو اُن کی عدت تین مہینے ہو گی۔‘‘

یہاں ’اِنِ ارْتَبْتُمْ‘ (اُن کے بارے میں اگر کوئی شک ہے)کے الفاظ سے یہ بات نکلتی ہے کہ اگر حمل کا اشتباہ نہیں ہے تو پھر عدت نہیں ہو گی۔

4۔ عورت اگر حاملہ ہے تو اُس کے لیے عدت کی مدت وضع حمل ہے۔ مطلب یہ ہے کہ وضع حمل تک کا دورانیہ اگرتین (3) ماہ سے کم ہے تو مدت کم ہو گی اور تین (3) ماہ سے زیادہ ہے تو مدت زیادہ ہو گی۔ گویا اِس صورت میں یہ مدت چند دن کی بھی ہو سکتی ہے اور نو (9) ماہ کی بھی ہو سکتی ہے۔ ارشاد ہے:

وَاُولَاتُ الْاَحْمَالِ اَجَلُھُنَّ اَنْ یَّضَعْنَ حَمْلَھُنَّ. (الطلاق 65: 4)

’’اور حاملہ عورتوں کی عدت یہ ہے کہ وہ حمل سے فارغ ہو جائیں۔‘‘

5۔ بیوہ کی عدت چار ماہ دس دن ہے۔ اِس میں بھی اصل علت کی حیثیت استبراے رحم کو حاصل ہے۔ اِسے تین حیض اِس لیے مقرر نہیں کیا گیا کہ موت طلاق کی طرح انسان کا اختیاری معاملہ نہیں ہے۔

اِس تفصیل سے واضح ہے کہ بعض صورتوں میں عدت کی مدت تین حیض ہے، بعض میں تین ماہ ہے، بعض میں چار ماہ دس دن ہے، بعض میں وضع حمل ہے اور بعض میں کوئی مدت نہیں ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ صورتوں کا یہ اختلاف مدت پر اثر انداز ہوکر اُسے متغیر کیوں کر دیتا ہے؟جواب یہ ہے کہ اِس کا سبب امکانِ حمل کو معلوم کرنا ہے۔ اِس طرح یہ بات پوری طرح مبرہن ہو جاتی ہے کہ عدت کی علت استبراے رحم یا وضع حمل ہے۔