iv۔ رخصت پر عمل سے کوئی اندیشہ نہ پیدا ہونا

چوتھی صورت یہ ہے کہ رخصت کو اختیار کرنے کی صورت میں نہ ایمان و اخلاق پر کوئی حرف آئے ، نہ کسی کے ساتھ زیادتی ہو، نہ کسی نفسیاتی دباؤ کا اندیشہ ہو۔ انسان یہ خیال کرے کہ وہ وقتی طور پر ، قحط، وبا، بیماری ، سفر، غربت اور اِس طرح کے دوسرے احوال میں مبتلا ہو کر بہ قدرِ ضرورت رخصت سے فائدہ اٹھا رہا ہے ۔ یہ چیز اُس کے لیے نہ اب مرغوب ہے اور نہ آیندہ مرغوب ہو سکتی ہے۔ جیسے ہی اللہ نے حالات میں بہتری پیدا فرمائی ، وہ اِس سے نجات حاصل کر لے گا۔ اِس صورت میں رخصت پر عمل محمود ہو گا۔ یہی وہ صورت ہے، جس کے لیے ہماری فقہ میں اِس امر کو بہ طورِ اصول اختیار کیا جاتا ہے کہ جب دو برائیوں میں سے ایک کا انتخاب مجبوری ہو جائے تو اُس برائی کو اختیار کرنا چاہیے، جو فساد اور شناعت کے اعتبار سے کم تر ہے:

إذا تعارض مفسدتان روعی اعظمھا ضررًا بارتکاب أخفھما.

(الاشباه والنظائر، سیوطی 87)

’’جب دو خرابیوں میں تقابل ہو تو بڑی خرابی سے بچنے لیے چھوٹی خرابی کا ارتکاب گوارا ہو گا۔‘‘

من ابتلی ببلیتین وھما متساویتان یأخذ بأیتھما شاء وإن اختلفا یختار أھونھما.

(الاشباه والنظائر، ابن نجیم 76)

’’اگر کوئی شخص دو برابر کی ضرررساں چیزوں میں گرفتار ہو جائے تو اُن میں سے جس کو چاہے، اختیار کر لے اور اُن میں کمی زیادتی کے لحاظ سے کوئی فرق ہو تو کمی والی کو اختیار کرے۔‘‘

ـــــــــــــــــــــــــــــ