iv۔سونے چاندی کے برتنوں میں کھانا اور ریشم پہننا

کھانے پینے کے لیے سونے اور چاندی کے برتن استعمال کرنا امارت کی نمود ونمایش ہے۔ ریشم و دیبا کا معاملہ بھی یہی ہے۔ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں یہ امیروں اور رئیسوں کا لباس تھا۔ اِسی طرح نایاب جانوروں کی بیش قیمت کھالوں کو بھی غلافوں اور پردوں کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا۔ اِس نوعیت کی تمام چیزیں دوسروں کو مال و دولت سے مرعوب کر کے اُن پر اپنی نفسیاتی بالادستی قائم کرنے کے لیے استعمال کی جاتی تھیں۔ اِس کے نتیجے میں ایک طبقے میں برتری اور دوسرے طبقے میں کم تری کا احساس پیدا ہونا فطری امر ہے۔ چنانچہ یہ احساسات متعدد اخلاقی مفاسد کو جنم دینے کا باعث بنتے ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اِنھی اخلاقی مفسدات کی بنا پر سونے چاندی کے برتنوں میں کھانے پینے، ریشم کا لباس پہننے، قیمتی کھالوں کے غلاف استعمال کرنے سے منع فرمایا ہے۔

آپ کی زوجۂ مطہرہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

الذي يشرب في إناء الفضة إنما يجرجر في بطنه نار جهنم.

(بخاری، رقم 5634)

’’جو شخص چاندی کے برتن میں کوئی چیز پیتا ہے، وہ اپنے پیٹ میں دوزخ کی آگ بھڑکا تا ہے۔‘‘

حذیفہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

لا تشربوا في إناء الذهب والفضة، ولا تلبسوا الديباج والحرير، فإنه لهم في الدنيا وهو لكم في الآخرة يوم القيامة. (مسلم، رقم 5394)

’’سونے اور چاندی کے برتن میں نہ پیو اور دیباج اور حریرنہ پہنو۔ یہ چیز یں دنیا میں تو اِن کا فروں کے لیے ہیں اور آخرت میں قیامت کے دن تمھارے لیے خاص ہوں گی۔‘‘

ایک روایت کے مطابق نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری امت میں کچھ ایسے لوگ ضرور پیدا ہوں گے، جو ریشم کو حلال کرلیں گے۔

استاذِ گرامی نے اِس روایت کی شرح میں لکھا ہے:

’’یعنی جب وہ (ریشم) کسی معاشرے میں مترفین کا لباس سمجھا جاتا ہو، جو انسان کے باطن میں ’بغي بغیر الحق‘کے رجحانات پر دلالت کرتا اور ظاہر میں تکبر کی علامت بن جاتا ہے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عہدمیں ایسا ہی تھا۔اِس کی یہ حیثیت اب باقی نہیں رہی،لیکن ہر شخص جانتا ہے کہ اِس کی جگہ بہت سی دوسری چیزیں آچکی ہیں، جن کی حیثیت اِس زمانے میں وہی ہے، جو اُس وقت ریشم کی تھی۔ چنانچہ اُن کا حکم بھی یہی ہونا چاہیے۔‘‘ (علم النبی 1/450)