1۔ اضطرار میں حرمت کا استثنا

اضطرار کے معنی شدید ضرورت کے ہیں۔اصطلاح میں اِس سے ایسی حالت مراد ہے، جب انسان صورتِ حال سےمجبور ہو کر ممنوعات سے مجتنب رہنے پرقادر نہ رہے۔ یعنی قحط، وبا، بیماری ، سفر، غربت اور اِس طرح کے دوسرے احوال اُسے اِس مقام پر لا کھڑا کریں کہ شریعت پر عمل کی صورت میں شدیدجسمانی نقصان یا ہلاکت کا اندیشہ پیدا ہو جائے۔ یہ صورت اصلاً خورو نوش کے ساتھ خاص ہے۔شریعت نے اِس کا استثنا قائم کیا ہے اور نقصان یا ہلاکت سے بچنے کے لیے محرمات کو استعمال کرنے کی اجازت دی ہے۔ چنانچہ قرآنِ مجید میں کھانے پینے کی حرمتوں ــــــ مردار، خون، سؤر کا گوشت اور ذبیحہ لغیر اللہــــــ کا تعین کرنے کے بعد فرمایا ہے کہ اگر مجبوری لاحق ہو جائے تو اِن ممنوعات میں سے کوئی چیز بہ قدرِ ضرورت کھائی جا سکتی ہے۔ ارشاد ہے:

اِنَّمَا حَرَّمَ عَلَیۡکُمُ الۡمَیۡتَۃَ وَ الدَّمَ وَ لَحۡمَ الۡخِنۡزِیۡرِ وَ مَاۤ اُہِلَّ بِہٖ لِغَیۡرِ اللّٰہِ، فَمَنِ اضۡطُرَّ غَیۡرَ بَاغٍ وَّ لَا عَادٍ فَلَاۤ اِثۡمَ عَلَیۡہِ ؕ اِنَّ اللّٰہَ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ.

(البقرہ2: 173)

’’اُس نے تو تمھارے لیے صرف مردار اور خون اورسؤر کا گوشت اور غیر اللہ کے نام کا ذبیحہ حرام ٹھیرایا ہے۔ اِس پر بھی جو مجبور ہو جائے، اِس طرح کہ نہ چاہنے والا ہو، نہ حد سے بڑھنے والا تو اُس پر کوئی گناہ نہیں۔ اللہ، یقیناً بخشنے والا ہے، وہ سراسر رحمت ہے۔‘‘

استاذِ گرامی جناب جاوید احمد غامدی کے نزدیک یہ ایک رخصت ہے، جو حلال کھانے کی عدم دستیابی کی اضطراری صورت میں عطا فرمائی گئی ہے۔ اِس صورت میں اگر کوئی شخص حرام چیز کھا لیتا ہے تو اُسے اِس عمل کی سزا نہیں دی جائے گی۔ سورۂ بقرہ کی مذکورہ آیت کی تفسیر میں اُنھوں نے لکھا ہے:

’’یہ اُس حالت اضطرار کے لیے ایک رخصت ہے جو کھانے کی کوئی چیز میسر نہ آنے سے پیدا ہوتی ہے۔ اِس میں حرام کے استعمال پر عقوبت اٹھالی گئی ہے، ’ فَلَآاِثْمَ عَلَیْہِ، اِنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ‘ کے الفاظ سے یہ بات بالکل واضح ہے۔ ‘‘(البیان1/ 175)

مردار، خون، سؤر کے گوشت اور غیر اللہ کے نام کےذبیحہ کا یہ حکم سورۂ مائدہ میں بھی بیان ہوا ہے۔ وہاں ’فَمَنِ اضۡطُرَّ‘ کے الفاظ کے ساتھ ’ فِیۡ مَخۡمَصَۃٍ‘ کے الفاظ کا اضافہ ہے۔ اِس کے معنی ایسی مجبوری کے ہیں، جو بھوک کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہے۔ فرمایا ہے:

فَمَنِ اضۡطُرَّ فِیۡ مَخۡمَصَۃٍ غَیۡرَ مُتَجَانِفٍ لِّاِثۡمٍ ۙ فَاِنَّ اللّٰہَ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ. (5 : 3)

’’پھر جو بھوک سے مجبور ہو کر اِن میں سے کوئی چیز کھا لے، بغیر اِس کے کہ وہ گناہ کا میلان رکھتا ہو تو اِس میں حرج نہیں، اِس لیے کہ اللہ بخشنے والا ہے، اُس کی شفقت ابدی ہے۔‘‘

امام امین احسن اصلاحی اِس مقام کی تفسیر میں لکھتے ہیں:

’’...’مَخْمَصَۃ‘ کے معنی بھوک کے ہیں۔ بھوک سے مضطر ہونے کا مفہوم یہ ہے کہ آدمی بھوک کی ایسی مصیبت میں گرفتار ہو جائے کہ موت یا حرام میں سے کسی ایک کے اختیار کرنے کے سوا کوئی اور راہ بہ ظاہر کھلی ہوئی باقی ہی نہ رہ جائے۔ ایسی حالت میں اُس کو اجازت ہے کہ حرام چیزوں میں سے بھی کسی چیز سے فائدہ اٹھا کر اپنی جان بچا سکتا ہے۔‘‘

(تدبر قرآن 2/ 458)

متعدد روایتوں سے اِس امر کی وضاحت ہوتی ہے کہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے حالتِ اضطرار میں استثنا کے اِس حکم کی روشنی میں لوگوں کو حرام اشیا میں سے کچھ کھالینے کی اجازت مرحمت فرمائی تھی۔ مسندِ احمد میں نقل ہوا ہے:

عن أبي واقد الليثي، أنهم قالوا: يا رسول اللّٰه، إنا بأرض تصيبنا بها المخمصة، فمتى تحل لنا الميتة؟ قال:”إذا لم تصطبحوا، ولم تغتبقوا، ولم تحتفئوا، فشأنكم بها .“

(رقم 21901)

’’حضرت ابو واقد اللیثی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ کچھ لوگوں نے (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ) عرض کیا: یا رسول اللہ، ہم جس علاقے میں رہتے ہیں، وہاں (کھانے کی حلال اشیا کی عدم دستیابی کی وجہ سے) ہمیں بھوک میں اضطرار کی حالت پیش آ جاتی ہے ( اور ہمارے پاس مردار کھانے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہتا)۔ اِس صورتِ حال میں ہمارے لیے مردار میں سے کتنا کھانا جائز ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: اگر تمھیں نہ صبح کچھ کھانے کو ملے اور نہ شام کو کچھ کھانے کو ملے اور تم کوئی سبزی بھی(عدم دستیابی کے باعث ) نہ توڑ سکو تو تمھیں اِس کی اجازت ہے۔‘‘

عن جابر بن سمرة، أن أهل بيت كانوا بالحرة محتاجين، قال: فماتت عندهم ناقة لهم أو لغيرهم، فرخص لهم النبي صلى اللّٰه عليه وسلم في أكلها، قال: فعصمتهم بقية شتائهم، أو سنتهم. (رقم 20815)

’’حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حرہ میں ایک محتاج خاندان کے لوگ رہتے تھے۔ اُن کے قرب و جوار میں اُن کی یا کسی اور کی اونٹنی مر گئی۔ (اُنھیں چونکہ کھانے کے لیے حلال اشیا میسر نہ تھیں، اِس لیے)نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کو یہ رخصت دے دی کہ وہ اُس اونٹنی کے گوشت کو استعمال کر سکتے ہیں۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ(اضطرار کی حالت میں) اُس اونٹنی نے اُنھیں باقی پورا سال بچائے رکھا ۔‘‘

قرآن وحدیث کے اِنھی نصوص کی بنا پر علماے اصول تکلیفِ ما لا یطاق سے بریت کو فقہ کے بنیادی اصولوں میں شمار کرتے ہیں اور یہ قرار دیتے ہیں کہ نقصان کو بہ ہر حال زائل کر دیا جاتا ہے اور ضرورت کی حالت میں محرمات کی حرمت اٹھا لی جاتی ہے:

الضرر يزال. (قواعد الفقہیہ 88)

’’ضر ر کو ختم کر دیا جاتا ہے۔‘‘

الضرورات تبيح المحظورات.

(الاشباہ والنظائر، ابن نجیم83-84)

’’اضطراری حالتیں حرام چیزوں کو مباح کر دیتی ہیں۔‘‘