جنت سراپا زینت

’خَالِصَۃً یَّوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ‘ (اور قیامت کے دن تو اہل ایمان کے لیےخاص ہوں گی) کے اِس بیان اور قرآنِ مجید کے دیگر مقامات سے واضح ہے کہ جنت سراپا زینت ہو گی۔ اُس میں دنیا والی نعمتیں اپنی اعلیٰ ترین صورت میں ہوں گی۔ یعنی اُس میں ریشم و اطلس کے پہناووں،سونے کے کنگنوں، موتیوں کے ہاروں کی صورت میں بدن کی زینتیں ہوں گی؛ محلات و باغات کی صورت میں رہن سہن کی زینتیں ہوں گی؛ پاکیزہ شراب و شباب کی صورت میں تفریح طبع کی زینتیں ہوں گی۔ استاذِ گرامی نے قرآن و حدیث کی روشنی میں جس طرح جنت کی تصویر کشی کی ہے،اُس سے جنت کا ایک عظیم الشان زینت کدہ ہونا بالکل واضح ہو جاتا ہے۔ وہ لکھتے ہیں:

’’اِس فانی دنیا میں بھی انسان اِس (جنت)کی نعمتوں کو کسی حد تک تصور میں لا سکے، قرآن نے اِس کے لیے بادشاہی کے اسباب و لوازم مستعار لیے ہیں۔ چنانچہ ہرے بھرے باغوں، بہتی نہروں، سر سبز و شاداب چمن زاروں، اونچے محلوں، زر و جواہر کے برتنوں، زریں کمر غلاموں، سونے کے تختوں، اطلس و کمخواب کے لباسوں، بلوریں پیالوں، عیش و طرب کی مجلسوں اور مہ جبیں کنواریوں کا ذکر اِسی مقصد سے کیا گیا ہے:

اِنَّ لِلْمُتَّقِیْنَ مَفَازًا، حَدَآئِقَ وَاَعْنَابًا، وَّکَوَاعِبَ اَتْرَابًا، وَّکَاْسًا دِہَاقًا، لَا یَسْمَعُوْنَ فِیْہَا لَغْوًا وَّلَا کِذّٰبًا، جَزَآءً مِّنْ رَّبِّکَ عَطَآءً حِسَابًا. (النبا 78: 31 - 36)

’’خدا سے ڈرنے والوں کے لیے البتہ، اُس دن بڑی فیروزمندی ہے۔ (رہنے کے لیے) باغ اور (کھانے کے لیے) انگور اور (دل بہلانے کے لیے) اٹھتی جوانیوں والی ہم سنیں اور (اُن کی صحبت میں پینے کے لیے) چھلکتے جام۔ وہاں وہ کوئی بے ہودہ بات اور کوئی بہتان نہ سنیں گے۔ یہ تیرے پروردگار کی طرف سے بدلہ ہو گا، اُس کی عنایت بالکل اُن کے عمل کے حساب سے۔‘‘

فَوَقٰہُمُ اللّٰہُ شَرَّ ذٰلِکَ الْیَوْمِ وَلَقّٰہُمْ نَضْرَۃً وَّسُرُوْرًا، وَجَزٰہُمْ بِمَا صَبَرُوْا جَنَّۃً وَّحَرِیْرًا، مُّتَّکِئِیْنَ فِیْہَا عَلَی الْاَرَآئِکِ، لَا یَرَوْنَ فِیْہَا شَمْسًا وَّلَا زَمْہَرِیْرًا، وَدَانِیَۃً عَلَیْہِمْ ظِلٰلُہَا وَذُلِّلَتْ قُطُوْفُہَا تَذْلِیْلاً، وَیُطَافُ عَلَیْہِمْ بِاٰنِیَۃٍ مِّنْ فِضَّۃٍ وَّاَکْوَابٍ کَانَتْ قَوَارِیْرَا، قَوَارِیْرَا مِنْ فِضَّۃٍ قَدَّرُوْہَا تَقْدِیْرًا، وَیُسْقَوْنَ فِیْہَا کَاْسًا کَانَ مِزَاجُہَا زَنْجَبِیْلاً، عَیْنًا فِیْہَا تُسَمّٰی سَلْسَبِیْلاً، وَیَطُوْفُ عَلَیْہِمْ وِلْدَانٌ مُّخَلَّدُوْنَ، اِذَا رَاَیْتَہُمْ حَسِبْتَہُمْ لُؤْلُؤًا مَّنْثُوْرًا، وَاِذَا رَاَیْتَ، ثَمَّ رَاَیْتَ نَعِیْمًا وَّمُلْکًا کَبِیْرًا، عٰلِیَہُمْ ثِیَابُ سُنْدُسٍ خُضْرٌ وَّاِسْتَبْرَقٌ وَّحُلُّوْٓا اَسَاوِرَ مِنْ فِضَّۃٍ وَسَقٰہُمْ رَبُّہُمْ شَرَابًا طَہُوْرًا، اِنَّ ہٰذَا کَانَ لَکُمْ جَزَآءً وَّکَانَ سَعْیُکُمْ مَّشْکُوْرًا.

(الدہر 76: 11 - 22)

’’سو اللہ نے اُنھیں اُس دن کی مصیبت سے بچا لیا اور اُنھیں تازگی اور سرور سے لا ملایا اور اُن کے صبر کے بدلے میں اُنھیں (رہنے کے لیے) باغ اور (پہننے کے لیے) ریشمی پوشاک عطا فرمائی۔ وہ اُس میں تختوں پر تکیے لگائے بیٹھے ہوں گے۔ نہ اُس میں دھوپ کی حدت دیکھیں گے، نہ سرما کی شدت۔ اُس کے درختوں کے سایے اُن پر جھکے ہوئے اور اُن کے خوشے بالکل اُن کی دسترس میں ہوں گے۔ اُن کے سامنے چاندی کے برتن، (اُن کے کھانے کے لیے) اور شیشے کے پیالے (اُن کے پینے کے لیے)، گردش میں ہوں گے ــــــ شیشے بھی چاندی کے، جنھیں اُن کے خدام نے (ہر خدمت کے لیے) نہایت موزوں اندازوں کے ساتھ سجا دیا ہے۔ اور (یہی نہیں)، اُنھیں وہاں ایسی شراب کے جام پلائے جائیں گے جس میں آب زنجبیل کی ملونی ہو گی۔ یہ بھی جنت میں ایک چشمہ ہے جسے سلسبیل کہا جاتا ہے۔اُن کی خدمت میں وہ لڑکے جو ہمیشہ لڑکے ہی رہیں گے، دوڑتے پھرتے ہوں گے۔تم اُن کو دیکھو گے تو یہی خیال کرو گے کہ موتی ہیں جو بکھیر دیے گئے ہیں اور دیکھو گے تو جہاں دیکھو گے، وہاں بڑی نعمت اور بڑی بادشاہی دیکھو گے۔ اِس حال میں کہ اُن کی اوپر کی پوشاک ہی سبز سندس اور استبرق کے کپڑے ہیں۔ اُن کو چاندی کے کنگن پہنا دیے گئے ہیں اور اُن کے پروردگار نے اُنھیں خود (اپنے حضور میں) شراب طہور پلائی ہے۔ یقیناً تمھارے لیے یہ تمھارے عمل کا صلہ ہے اور (تمھیں مبارک کہ) تمھاری سعی مشکور ہوئی۔‘‘

اِسی طرح فرمایا ہے کہ جنت کے لوگ جو چاہیں گے، ملے گا؛ جو مانگیں گے، پائیں گے۔ اُن کے سینے حسد اور کینے اور بغض سے پاک کر دیے جائیں گے۔ وہ بھائیوں کی طرح تختوں پر آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے۔ نہ وہاں سے نکالے جائیں گے، نہ کبھی اکتا کر نکلنا چاہیں گے اور نہ کسی آزار میں مبتلا ہوں گے۔ اُس کی نعمتیں ہر دفعہ نئے حسن، نئی لذت اور نئے ذائقے کے ساتھ سامنے آئیں گی۔ ایک ہی پھل جب بار بار کھانے کے لیے دیا جائے گا تو ہر مرتبہ لذت، حسن اور ذائقے کی ایک نئی دنیا اپنے ساتھ لے کر آئے گا۔ ہر طرف پاکیزگی، ہر طرف نزاہت۔ نہ ماضی کا کوئی پچھتاوا، نہ مستقبل کا کوئی اندیشہ۔ پھر سب سے بڑھ کر خدا کی رضوان اور اُس کے جواب میں اُس کے بندوں کی طرف سے حمد و ثنا کے زمزمے اور تسبیح و تہلیل کا سرودِ سرمدی جس سے جنت کی فضائیں شب و روز معمور رہیں گی۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مزید وضاحت کی ہے کہ جنت میں رہنے والے کھائیں گے اور پئیں گے، لیکن نہ تھوکیں گے، نہ بول و براز کی ضرورت محسوس کریں گے، نہ ناک سے رطوبت نکلے گی، نہ بلغم اور کھنکھار جیسی چیزیں ہوں گی۔ وہاں کے پسینے سے مشک کی خوشبو آئے گی۔ وہ ایسی نعمتوں میں رہیں گے کہ کبھی کوئی تکلیف نہ دیکھیں گے۔ نہ اُن کے کپڑے بوسیدہ ہوں گے، نہ جوانی زائل ہو گی۔ اُس میں منادی پکارے گا کہ یہاں وہ صحت ہے، جس کے ساتھ بیماری نہیں؛ وہ زندگی ہے، جس کے ساتھ موت نہیں؛ وہ جوانی ہے، جس کے ساتھ بڑھاپا نہیں۔ لوگوں کے چہرے اُس میں چاند تاروں کی طرح چمک رہے ہوں گے۔‘‘(میزان 198 -200)

خلاصۂ کلام یہ ہے کہ دین رہبانیت اور ترکِ دنیا کی ترغیب نہیں دیتا۔ اللہ تعالیٰ کا یہ ہرگز مطالبہ نہیں ہے کہ لوگ ٹاٹ اور صوف پہنیں، بوریے کو بستر بنائیں، گدڑی کو اوڑھیں، بَن باسی لے کر جھونپڑیوں میں زندگی گزاریں اور نعمتوں سے منہ موڑ کر جوگ سادھ لیں۔ وہ انواع و اقسام کی نعمتیں پیداکرتا ہے، اُنھیں طرح طرح سے مزین کرتا ہے اور اپنے بندوں کو ترغیب دیتا ہے کہ وہ اُنھیں برتیں، اُن کی فیض رسانی سے مستفید ہوں اور اُن کی تزئین و آرایش سے نشاط حاصل کریں۔ اُس کی جنت بھی انعام و اکرام اور حسن و جمال کا عشرت کدہ ہے، جو اُس نے اپنے پاکیزہ بندوں کے لیے تخلیق کی ہے۔ اِس اعتبار سے دیکھا جائے تو اُس کی نعمتوں سے بے نیازی صریح بداخلاقی ہے اور اِسے اُس سے منسوب کرنا بدترین جرم ہے۔ اُس منعم حقیقی سے بھلایہ بات کیسے منسوب کی جا سکتی ہے کہ وہ اپنی تخلیق کردہ زینتوں کو اپنے بندوں پر حرام ٹھہرا دے گا! استاذِ گرامی لکھتے ہیں:

’’...دین کی صوفیانہ تعبیر اور صوفیانہ مذاہب تو (زینت کی) اِن سب چیزوں کو مایا کا جال سمجھتے اور بالعموم حرام یا مکروہ یاقابل ترک اور ارتقاے روحانی میں سد راہ قرار دیتے ہیں، مگر قرآن کا نقطۂ نظر یہ نہیں ہے۔ اُس نے اِس آیت میں نہایت سخت تنبیہ اور تہدید کے انداز میں پوچھا ہے کہ کون ہے، جو رزق کے طیبات اور زینت کی اُن چیزوں کو حرام قرار دینے کی جسارت کرتا ہے، جو خدا نے اپنے بندوں کے لیے پیدا کی ہیں؟ یہ آخری الفاظ بہ طورِ دلیل ہیں کہ خدا کا کوئی کام عبث نہیں ہوتا۔ اُس نے یہ چیزیں پیدا کی ہیں تو اِسی لیے پیدا کی ہیں کہ حدودِالٰہی کے اندر رہ کر اُس کے بندے اِنھیں استعمال کریں۔ اِن کا وجود ہی اِس بات کی شہادت ہے کہ اِن کے استعمال پر کوئی ناروا پابندی عائد نہیں کی جا سکتی۔‘‘ (البیان 2/ 148)

ـــــــــــــــــــــــــــــ