لفظوں کے ذریعے سے علت کا تعین

بعض موقعوں پر حکم کی علت حکم کے ساتھ ہی لفظاً مذکور ہوتی ہے ۔ اِس مقصد کے لیے کسی جگہ حروف تعلیل کے ساتھ علت کو بیان کر دیا جاتا ہے اور کسی جگہ یہ جملے کے دروبست میں واضح کر دی جاتی ہے۔ اِس طریقے پر علت کی تعیین کی ایک مثال محرماتِ نکاح ہیں ۔

سورۂ نساء (4) کی آیات 22 تا 24 میں بعض عورتوں سے نکاح کو ممنوع ٹھہرایا ہے تو ممانعت کی علت ’اِنَّہٗ کَانَ فَاحِشَۃً‘ (بے شک، یہ کھلی ہوئی بے حیائی ہے) کے الفاظ میں واضح فرما دی ہے ۔ ارشاد ہے:

وَلَا تَنْکِحُوْا مَا نَکَحَ اٰبَآؤُکُمْ مِّنَ النِّسَآءِ اِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ، اِنَّہٗ کَانَ فَاحِشَۃً وَّمَقْتًا وَسَآءَ سَبِیْلًا. حُرِّمَتْ عَلَیْکُمْ اُمَّھٰتُکُمْ وَبَنٰتُکُمْ وَاَخَوٰتُکُمْ وَعَمّٰتُکُمْ وَخٰلٰتُکُمْ وَبَنٰتُ الْاَخِ وَ بَنٰتُ الْاُخْتِ وَاُمَّھٰتُکُمُ الّٰتِیْٓ اَرْضَعْنَکُمْ وَاَخَوٰتُکُمْ مِّنَ الرَّضَاعَۃِ وَاُمَّھٰتُ نِسَآءِکُمْ وَرَبَآءِبُکُمُ الّٰتِیْ فِیْ حُجُوْرِکُمْ مِّنْ نِّسَآءِکُمُ الّٰتِیْ دَخَلْتُمْ بِھِنَّ، فَاِنْ لَّمْ تَکُوْنُوْا دَخَلْتُمْ بِھِنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْکُمْ، وَحَلَآئِلُ اَبْنَآءِکُمُ الَّذِیْنَ مِنْ اَصْلَابِکُمْ وَاَنْ تَجْمَعُوْا بَیْنَ الْاُخْتَیْنِ اِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ، اِنَّ اللّٰہَ کَانَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا. وَّالْمُحْصَنٰتُ مِنَ النِّسآءِ اِلَّا مَا مَلَکَتْ اَیْمَانُکُمْ کِتٰبَ اللّٰہِ عَلَیْکُمْ.

’’اور جن عورتوں سے تمھارے باپ نکاح کر چکے ہوں، اُن سے ہرگز نکاح نہ کرو، مگر جو پہلے ہو چکا، سو ہو چکا۔ بے شک، یہ کھلی ہوئی بے حیائی ہے، سخت قابل نفرت بات ہے اور نہایت برا طریقہ ہے۔ تم پر تمھاری مائیں، تمھاری بیٹیاں، تمھاری بہنیں، تمھاری پھوپھیاں، تمھاری خالائیں، تمھاری بھتیجیاں اور تمھاری بھانجیاں حرام کی گئی ہیں اور تمھاری وہ مائیں بھی جنھوں نے تمھیں دودھ پلایا اور رضاعت کے اِس تعلق سے تمھاری بہنیں بھی۔ اِسی طرح تمھاری بیویوں کی مائیں حرام کی گئی ہیں اور تمھاری بیویوں کی لڑکیاں حرام کی گئی ہیں، جو تمھاری گودوں میں پلی ہیں ــــ اُن بیویوں کی لڑکیاں جن سے تم نے خلوت کی ہو، لیکن اگر خلوت نہ کی ہو توتم پرکچھ گناہ نہیں ــــ اور تمھارے صلبی بیٹوں کی بیویاں بھی۔ اور یہ بھی حرام ہے کہ تم دو بہنوں کو ایک ہی نکاح میں جمع کرو، مگر جو ہو چکا، سو ہو چکا۔اللہ یقیناً بخشنے والا ہے، اُس کی شفقت ابدی ہے۔اور وہ عورتیں بھی تم پر حرام ہیں، جو کسی کے نکاح میں ہوں، الاّ یہ کہ وہ تمھاری ملکیت میں آجائیں۔ یہ اللہ کا قانون ہے، جس کی پابندی تم پر لازم کی گئی ہے۔‘‘

مطلب یہ ہے کہ متذکرہ خواتین سے ازدواجی تعلق اِس لیے ممنوع ہے کہ ایسا کرنا صریح بے حیائی ہے۔ استاذِ گرامی نے اِس حکم کی علت کو واضح کرتے ہوئے لکھا ہے:

’’یہ اُن عورتوں کی فہرست ہے جن سے نکاح ممنوع قرار دیا گیا ہے۔ اِس کی تمہید سوتیلی ماں کے ساتھ نکاح کی حرمت سے اٹھائی گئی ہے اور خاتمہ اُن عورتوں سے نکاح کی ممانعت پر ہوا ہے جو کسی دوسرے کے عقد میں ہوں۔ اِس تمہید و خاتمہ کے درمیان جو حرمتیں بیان ہوئی ہیں، وہ رشتہ داری کے اصول ثلاثہ، یعنی نسب، رضاعت اور مصاہرت پر مبنی ہیں۔

عرب جاہلی کے بعض طبقوں میں رواج تھا کہ باپ کی منکوحات بیٹے کو وراثت میں ملتی تھیں اور بیٹے اُنھیں بیوی بنا لینے میں کوئی قباحت محسوس نہیں کرتے تھے۔ قرآن نے فرمایا کہ یہ کھلی ہوئی بے حیائی، نہایت قابل نفرت فعل اور انتہائی برا طریقہ ہے، لہٰذا اِسے اب بالکل ممنوع قرار دیا جاتا ہے۔ اِس سے پہلے جو کچھ ہو چکا، سو ہو چکا، لیکن آیندہ کسی مسلمان کو اِس فعل شنیع کا ارتکاب نہیں کرنا چاہیے۔

یہی معاملہ اُس عورت کا ہے، جو کسی شخص کے نکاح میں ہو۔ ...

...ماں، بیٹی، بہن، پھوپھی، خالہ، بھانجی اور بھتیجی ؛ یہی وہ سات رشتے ہیں جن کی قرابت اپنے اندر فی الواقع اِس نوعیت کا تقدس رکھتی ہے کہ اُس میں جنسی رغبت کا شائبہ بھی ہو تو اُسے فطرت صالحہ کسی طرح برداشت نہیں کر سکتی۔...

...یہی تقدس رضاعی رشتوں میں بھی ہے۔

...نسب اور رضاعت کے بعد وہ حرمتیں بیان ہوئی ہیں جو مصاہرت پر مبنی ہیں۔ اِس تعلق سے جو رشتے پیدا ہوتے ہیں، اُن کا تقدس بھی فطرتِ انسانی کے لیے ایسا واضح ہے کہ اُس کے لیے کسی استدلال کی ضرورت نہیں ہے۔ ‘‘(میزان 413 – 416 )