محرماتِ اخلاق

سورہٴ نحل(16) کی مذکورہ آیت 90 میں جن تین چیزوں سے روکا ہے، سورۂ اعراف (7) کی آیت 33 میں بھی اِنھی کو حرام قرار دیا ہے۔ اِس مقصد کے لیے نحل میں ’یَنْھٰی‘ (وہ روکتا ہے) اور اعراف میں ’حَرَّمَ‘ (اُس نے حرام کیا)کے الفاظ آئے ہیں۔ ارشاد فرمایا ہے:

قُلۡ اِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّیَ الۡفَوَاحِشَ مَا ظَہَرَ مِنۡہَا وَ مَا بَطَنَ وَ الۡاِثۡمَ وَ الۡبَغۡیَ بِغَیۡرِ الۡحَقِّ وَ اَنۡ تُشۡرِکُوۡا بِاللّٰہِ مَا لَمۡ یُنَزِّلۡ بِہٖ سُلۡطٰنًا وَّ اَنۡ تَقُوۡلُوۡا عَلَی اللّٰہِ مَا لَا تَعۡلَمُوۡنَ.

’’کہہ دو، میرے پروردگار نے تو صرف فواحش کو حرام کیا ہے، خواہ وہ کھلے ہوں یا چھپے اور حق تلفی اور ناحق زیادتی کو حرام کیا ہے اور اِس کو کہ تم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھیراؤ، جس کے لیے اُس نے کوئی سند نازل نہیں کی اور اِس کو کہ تم اللہ پر افترا کرکے کوئی ایسی بات کہو جسے تم نہیں جانتے۔‘‘

اِس آیت کو نحل کے مذکورہ بالا حکم کے تقابل میں دیکھیں تو دو فرق متعین ہوتے ہیں۔ ایک یہ کہ ’مُنْکَر‘ (برائی) کی جگہ ’اِثۡم ‘ (برائی) کا لفظ آیا ہے۔ دوسرے یہ کہ شرک اور بدعت کی دو مزید حرمتوں کا اضافہ فرمایا ہے۔ ’مُنْکَر‘ (برائی)کی جگہ ’اِثۡم ‘ (برائی) کا لفظ اختیار کرنےکا مقصد ’’حق تلفی‘‘کے مفہوم کو خاص کرنا ہے۔اخلاقی برائیوں، گناہوں اور منکرات کو اگر انواع میں تقسیم کیا جائے تو تین ہی اقسام متعین ہوتی ہیں۔ ایک وہ برائیاں ہیں، جو بے حیائی کی نوعیت کی ہیں؛ دوسری وہ ہیں،جن میں ظلم و زیادتی کا اظہار ہوتا ہے اور تیسری وہ ہیں، جن میں دوسروں کے حقوق تلف کیے جاتے ہیں۔ تمام رذائل اخلاق اِنھی تین انواع میں تقسیم ہیں۔ اِن کے علاوہ کوئی چوتھی نوع قیاس نہیں کی جا سکتی۔ قرآنِ مجید نے ’مُنْکَر‘ (برائی) کی جگہ ’اِثۡم ‘کا لفظ استعمال کر کے واضح کر دیا ہے کہ برائی کی جن تین نوعیتوں کو حرام ٹھہرایا ہے، اُن میں فواحش اور ناحق زیادتی کے علاوہ تیسری نوعیت ’’حق تلفی‘‘ ہے۔ استاذِ گرامی لکھتے ہیں:

’’... قرآن نے ایک دوسرے مقام پر اِس کی جگہ ’اِثْم‘ کا لفظ استعمال کرکے واضح کر دیا ہے کہ اِس سے مراد یہاں وہ کام ہیں، جن سے دوسروں کے حقوق تلف ہوتے ہوں۔‘‘(البیان 3/ 42)

جہاں تک دو مزید ممنوعات ـــــ شرک اور بدعت ـــــ کا تعلق ہے تو اِن کی نوعیت اضافی انواع کی نہیں ہے۔یہ مذکورہ حرمتوں ہی کے فروع ہیں، جنھیں اُن کی غیر معمولی شناعت کی وجہ سے منفرد طور پر بیان کیا ہے۔ اِن میں سے پہلی چیز کے لیے ’اَنۡ تُشۡرِکُوۡا بِاللّٰہِ‘ ( کہ تم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھیراؤ) کے الفاظ آئے ہیں۔یہ ’اِثۡمَ‘ یعنی حق تلفی کی فرع ہے۔ شرک اللہ تعالیٰ کے معاملے میں صریح حق تلفی ہے ۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ یہ اللہ ہی کا حق ہے کہ اُسے الٰہ، معبودِ حقیقی اور قادرِ مطلق مانا جائے۔ اگر کوئی شخص اُس کی ذات و صفات میں کسی غیر کو شریک کرتا ہے تو اُس کے حقوق تلف کرنے کے جرم کا ارتکاب کرتاہے۔مزید یہ کہ یہ افترا علی اللہ ہے، اِس لیے اِس میں ’بَغْی‘یعنی ناحق زیادتی کا مفہوم بھی بہ درجۂ اتم شامل ہے۔ دوسری چیز کے لیے ’اَنۡ تَقُوۡلُوۡا عَلَی اللّٰہِ مَا لَا تَعۡلَمُوۡنَ‘ (کہ تم اللہ پر افترا کرکے کوئی ایسی بات کہو، جسے تم نہیں جانتے)کے الفاظ آئے ہیں۔ اِس کے معنی اللہ پر جھوٹ باندھنے کے ہیں۔ ایسا اقدام بدعت ،یعنی دین میں اضافہ ہے، لہٰذا اللہ تعالیٰ کے حضور میں علانیہ سرکشی کے مترادف ہے۔ چنانچہ اِسے ’بَغْی‘کے تحت سمجھا جائے گا۔

شرک و بدعت کی اِن دونوں تعلیقات کو منفرد حرمتوں کی حیثیت سے بیان کرنے کا بنیادی سبب اِن کی غیر معمولی شناعت ہے۔تاہم ، اِس کے ساتھ ایک ضمنی سبب یہ بھی ہےکہ یہ دونوں اپنے اطلاق کے لحاظ سے انواع ہیں۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ یہ بھی فواحش، حق تلفی اور ناحق زیادتی کی طرح اصولی عنوانات ہیں، جن کے تحت حرام افعال کی بے شمار صورتیں تشکیل پاتی ہیں۔ مثال کے طور پر ملائکہ پرستی، کواکب پرستی، آبا پرستی، احبار پرستی ، بت پرستی، قبر پرستی، ایمان بالجبت والطاغوت جیسے متعدد مشرکانہ افعال ہیں، جو شرک کےزمرے میں شمار ہوتے ہیں۔