ـــــــ مقدمہ 3 ـــــــ

زینتوں کی حلت

اللہ تعالیٰ نےانسان کو حس جمالیات سے فیض یاب کرنے کے ساتھ اُس کی تسکین کے اسباب بھی پیدا کیے ہیں۔ یہ اسباب انفس و آفاق، دونوں میں ودیعت ہیں۔ انسان اپنے حسن نظر، حسن بیان اورحسن صوت و سماعت کی بنا پر اِنھیں بروے کار لاتا اور لطف و نشاط کا سامان کرتا ہے۔ بدن کی آرایش، گھر کی زیبایش، ماحول کی تزئین، گفتگو کی لطافت، کلام کی غنائیت، آواز کا ترنم،اِسی کی مختلف صورتیں ہیں۔ اِن کی حقیقت اللہ کی زینتوں کی ہے، جو اُس نے اپنے بندوں کے لیے پیدا کی ہیں۔ یہ اللہ کی نعمتیں ہیں اور ہر لحاظ سے جائز اور حلال ہیں۔ قرآنِ مجید نے اِن پر نہ کوئی پابندی عائد کی ہے اور نہ اِن سے بے اعتنائی کی ترغیب دی ہے۔ اِس کے برعکس، اُن مذہبی پیشواؤں کو تنبیہ فرمائی ہے،جو اِنھیں حرام قرار دے کر لوگوں کو اِن سے دور رہنے کی تلقین کرتے ہیں۔ اِس تنبیہ کے ساتھ اللہ نے وہ اصولی رہنمائی بھی ارشاد فرمائی ہے، جس پر اسباب ِحسن و جمال کے حلال و حرام کا انحصار ہے۔ یہ تنبیہ و تہدید اور اصولی رہنمائی سورۂ اعراف (7) کی آیات 28 تا 32 میں مذکور ہے۔ ارشاد فرمایا ہے:

وَ اِذَا فَعَلُوۡا فَاحِشَۃً قَالُوۡا وَجَدۡنَا عَلَیۡہَاۤ اٰبَآءَنَا وَ اللّٰہُ اَمَرَنَا بِہَا ؕ قُلۡ اِنَّ اللّٰہَ لَا یَاۡمُرُ بِالۡفَحۡشَآءِ ؕ اَتَقُوۡلُوۡنَ عَلَی اللّٰہِ مَا لَا تَعۡلَمُوۡنَ. قُلۡ اَمَرَ رَبِّیۡ بِالۡقِسۡطِ ۟ وَ اَقِیۡمُوۡا وُجُوۡہَکُمۡ عِنۡدَ کُلِّ مَسۡجِدٍ وَّ ادۡعُوۡہُ مُخۡلِصِیۡنَ لَہُ الدِّیۡنَ ۬ؕ کَمَا بَدَاَکُمۡ تَعُوۡدُوۡنَ. فَرِیۡقًا ہَدٰی وَ فَرِیۡقًا حَقَّ عَلَیۡہِمُ الضَّلٰلَۃُ ؕ اِنَّہُمُ اتَّخَذُوا الشَّیٰطِیۡنَ اَوۡلِیَآءَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ وَ یَحۡسَبُوۡنَ اَنَّہُمۡ مُّہۡتَدُوۡنَ.

’’یہ لوگ جب کسی بے حیائی کا ارتکاب کرتے ہیں تو کہتے ہیں: ہم نے اپنے باپ دادا کو اِسی طریقے پر پایا ہے اور خدا نے ہمیں اِسی کا حکم دیا ہے۔ اِن سے کہو، اللہ کبھی بے حیائی کا حکم نہیں دیتا۔ کیا تم اللہ پر افترا کرکے ایسی باتیں کہتے ہو، جنھیں تم نہیں جانتے؟ اِن سے کہو، میرے پروردگار نے (ہر معاملے میں ) راستی کا حکم دیا ہے۔ اُس نے فرمایا ہے کہ ہر مسجد کے پاس اپنا رخ اُسی کی طرف کرو اور اطاعت کو اُس کے لیے خالص رکھ کر اُسی کو پکارو۔ تم (اُس کی طرف) اُسی طرح لوٹو گے، جس طرح اُس نے تمھاری ابتدا کی تھی۔ ایک گروہ کو اُس نے ہدایت بخشی، (وہ اِن سب باتوں کو مانتا ہے) اور ایک گروہ پر گم راہی مسلط ہو گئی، اِس لیے کہ اُنھوں نے اللہ کو چھوڑ کر شیطانوں کو اپنا رفیق بنا لیا اور سمجھتے یہ ہیں کہ راہ ہدایت پر ہیں۔

یٰبَنِیۡۤ اٰدَمَ خُذُوۡا زِیۡنَتَکُمۡ عِنۡدَ کُلِّ مَسۡجِدٍ وَّ کُلُوۡا وَ اشۡرَبُوۡا وَ لَا تُسۡرِفُوۡا ۚ اِنَّہٗ لَا یُحِبُّ الۡمُسۡرِفِیۡنَ. قُلۡ مَنۡ حَرَّمَ زِیۡنَۃَ اللّٰہِ الَّتِیۡۤ اَخۡرَجَ لِعِبَادِہٖ وَ الطَّیِّبٰتِ مِنَ الرِّزۡقِ ؕ قُلۡ ہِیَ لِلَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا فِی الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا خَالِصَۃً یَّوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ ؕ کَذٰلِکَ نُفَصِّلُ الۡاٰیٰتِ لِقَوۡمٍ یَّعۡلَمُوۡنَ.

آدم کے بیٹو، ہر مسجد کی حاضری کے وقت اپنی زینت کے ساتھ آؤ، اور کھاؤ پیو، مگر حد سے آگے نہ بڑھو۔ اللہ حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ اِن سے پوچھو، (اے پیغمبر)، اللہ کی اُس زینت کو کس نے حرام کر دیا، جو اُس نے اپنے بندوں کے لیے پیدا کی تھی اور کھانے کی پاکیزہ چیزوں کو کس نے ممنوع ٹھیرایا ہے؟ اِن سے کہو، وہ دنیا کی زندگی میں بھی ایمان والوں کے لیے ہیں، (لیکن خدا نے منکروں کو بھی اُن میں شریک کر دیا ہے) اور قیامت کے دن تو خاص اُنھی کے لیے ہوں گی، (منکروں کا اُن میں کوئی حصہ نہ ہو گا)۔ ہم اُن لوگوں کے لیے جو جاننا چاہیں، اپنی آیتوں کی اِسی طرح تفصیل کرتے ہیں۔‘‘

کلام کے آغاز میں مشرکین کے اُن کاموں کی شناعت واضح کی ہے، جو وہ مذہب کے نام پر کرتے تھے۔ اِس میں سب سے نمایاں کام بیت اللہ کا برہنہ طواف تھا۔ مرد اور عورتیں، دونوں عبادت کی آڑ میں اِس عریانی کا ارتکاب کرتے تھے۔ بدن کی زینتـــــ لباس ـــــ کو اتارنے کا حکم دیا جاتا تھا۔دلیل یہ تھی کہ یہ دنیا داری کی آلایش ہے، اِس لیے اِس سے پاک ہو کر بیت اللہ میں داخل ہونا چاہیے۔ بے حیائی کے اِس ناپاک کام کو اللہ کے حکم اوراپنے آبا و اجدادکی سنت کے طور پر پیش کیا جاتا تھا۔استاذ ِگرامی نے آیت کے لفظ ’فَاحِشَۃ‘ کی وضاحت میں مشرکین کے اِس عمل کو تفصیل سے بیان کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں:

’’اصل میں لفظ ’فَاحِشَۃ‘ استعمال ہوا ہے۔ آگے کی آیات سے واضح ہو جاتا ہے کہ اِس سے بے حیائی کے اُن کاموں کی طرف اشارہ کیا ہے، جو مذہب کے نام پر کیے جاتے تھے۔ اِس طرح کی چیزیں مشرکین کے معبدوں اور صوفیانہ مذاہب کی درگاہوں اور عبادت گاہوں میں عام رہی ہیں۔ یہ پروہتوں، پجاریوں اور مجاوروں کی شیطنت سے وجود میں آتی تھیں۔ روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ عرب جاہلی میں بھی اِسی نوعیت کی ایک بدعت بیت اللہ کے برہنہ طواف کی رائج تھی۔ لوگ اِسے مذہبی فعل سمجھ کر کرتے تھے اور اُن کا خیال تھا کہ اُنھیں خدا نے اِس کا حکم دیا ہے۔ قریش بیت اللہ کے پروہت تھے اور اُنھوں نے فتویٰ دے رکھا تھا کہ اُن سے باہر کے عرب اپنے کپڑوں میں کعبے کا طواف نہیں کر سکتے۔ اُن کے لیے ضروری ہے کہ یا قریش میں سے کسی سے اِس کام کے لیے کپڑے مستعار لیں یا ننگے طواف کریں۔ گویا دوسروں کے کپڑے ایسی آلایش ہیں جن کے ساتھ یہ غیر معمولی عبادت نہیں ہو سکتی۔‘‘(البیان 2/ 144)

اللہ تعالیٰ نے اِس بے حیائی کی اپنی طرف نسبت کی سختی سے تردید فرمائی ہے اور پوری تنبیہ و تہدید کے ساتھ فرمایا ہے کہ اللہ پرایسی بے سند اور بے دلیل بات کی تہمت کیوں لگاتے ہو؟

اِس پس منظر میں حکم فرمایا ہے کہ اللہ کی عبادت گاہ میں آنے کے لیے بدن کی زینت، یعنی لباس سے آراستہ ہو کر آؤ۔ گویا اِس معاملے میں نہ بے حیائی کی کوئی گنجایش ہے کہ برہنہ ہو جاؤ اور نہ رہبانیت کی کہ اِس بد ذوقی اور بے زینتی کو اللہ سے منسوب کرنے لگو۔مزید واضح فرمایا ہے کہ بدن کی زینت کے ساتھ غذا کی زینت پر بھی کوئی پابندی نہیں ہے۔ یعنی خورو نوش کے جو طیبات زندگی کی سلامتی اور لذتِ کام و دہن کے لیے گھر در میں استعمال کرتے ہو، وہ مسجدوں میں بھی استعمال کر سکتے ہو۔ جس طرح لباس دین داری کے خلاف نہیں ہے، اُسی طرح کھانے پینے میں اللہ کی نعمتوں سے فائدہ اٹھانا بھی دین داری کے خلاف نہیں ہے۔

اِس معاملے میں جو ممانعت ہے، وہ اسراف کی ہے۔ــــــ اللہ کی نعمتوں کے معاملے میں عدل و قسط پر قائم نہ رہتے ہوئے حدِ اعتدال سے تجاوز کرنا اسراف ہے۔ــــــ چنانچہ جس طرح اللہ کی نعمتوں سے بے پروائی برتنا غیر اخلاقی رویہ ہے، اُسی طرح اُنھیں فضول طریقے سے ضائع کر دینا بھی خلافِ اخلاق ہے۔ نعمت کو مسترد کرنا یا اُس کا بے مصرف استعمال کرنا، دونوں رویے نعمت کی ناقدری کا اظہار ہیں۔ فیضانِ الٰہی کے بارے میں ایسی بد تہذیبی اور ایسی بے باکی کو ہرگز گوارا نہیں کیا جا سکتا۔ اللہ کا دین فطرت کے توازن پر قائم ہے، لہٰذاوہ اِس معاملے میں کسی عدمِ توازن اور کسی افراط و تفریط کو تزکیۂ نفس کے خلاف ہونے کی وجہ سے رد کرتا ہے۔ امام امین احسن اصلاحی اِس امر کی وضاحت میں لکھتے ہیں:

’’. . . اللہ تعالیٰ ’قَائِمٌ بِالْقِسْطِ‘ ہے۔ اِس وجہ سے وہ ’مُقْسِطِیْن‘، یعنی عدل و اعتدال پر قائم رہنے والوں کو پسند کرتا ہے، ’مُسْرِفِیْن‘، یعنی عدل و اعتدال سے تجاوز کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ یہ بے اعتدالی افراط کی نوعیت کی بھی ہوسکتی ہے، تفریط کی نوعیت کی بھی، اور یہ دونوں ہی باتیں خدا کی پسند کے خلاف ہیں۔ نہ وہ یہ پسند کرتا ہے کہ آدمی کھانے پینے پہننے ہی کو مقصود بنا لے اور رات دن اِسی کی سرگرمیوں میں مشغول رہے اور نہ وہ یہ پسند کرتا ہے کہ اِن چیزوں کو راہبوں اور جوگیوں کی طرح تیاگ دے۔ تبذیر اورتفریط، دونوں ہی شیطان کی نکالی ہوئی راہیں ہیں۔ خدا زندگی کے ہر پہلو میں عدل و اعتدال کو پسند فرماتا ہے۔‘‘ (تدبرقرآن3/ 251- 252)

مسجد وں میں حاضری کی باطل اور خود ساختہ پابندیوں کی تردید کے بعد آیت 32 میں زینت کی تمام چیزوں کے بارے میں اصولی ہدایت ارشاد فرمائی ہے۔ قرآنِ مجید کی یہ آیت حلال و حرام کے بارے میں قولِ فیصل کی حیثیت رکھتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نےاِس میں واضح کر دیا ہے کہ کسی چیز کو حرام قرار دینا کس کا حق ہے اور زینتوں کے بارے میں اُس کا اصولی حکم کیا ہے؟ ارشاد فرمایا ہے:

قُلۡ مَنۡ حَرَّمَ زِیۡنَۃَ اللّٰہِ الَّتِیۡۤ اَخۡرَجَ لِعِبَادِہٖ وَ الطَّیِّبٰتِ مِنَ الرِّزۡقِ ؕ قُلۡ ہِیَ لِلَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا فِی الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا خَالِصَۃً یَّوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ ؕ کَذٰلِکَ نُفَصِّلُ الۡاٰیٰتِ لِقَوۡمٍ یَّعۡلَمُوۡنَ.

’’اِن سے پوچھو، (اے پیغمبر)، اللہ کی اُس زینت کو کس نے حرام کر دیا، جو اُس نے اپنے بندوں کے لیے پیدا کی تھی اور کھانے کی پاکیزہ چیزوں کو کس نے ممنوع ٹھیرایا ہے؟ اِن سے کہو، وہ دنیا کی زندگی میں بھی ایمان والوں کے لیے ہیں، (لیکن خدا نے منکروں کو بھی اُن میں شریک کر دیا ہے) اور قیامت کے دن تو خاص اُنھی کے لیے ہوں گی، (منکروں کا اُن میں کوئی حصہ نہ ہو گا)۔ ہم اُن لوگوں کے لیے جو جاننا چاہیں، اپنی آیتوں کی اِسی طرح تفصیل کرتے ہیں۔‘‘

اِس آیت کی تفہیم کے لیے ضروری نکات درجِ ذیل ہیں۔