تکلیفِ مالا یطاق

آخرت میں جزا و سزا کا معاملہ انسان کے اُس ایمان و عمل پر منحصر ہے، جو اُس کے علم و ادراک کے مطابق اور اختیار و امکان میں داخل ہے ۔چنانچہ وہ اُن معاملات کے لیے ماخوذ نہیں ہے، جو اُس کے فہم سے بالا یا طاقت سے باہر ہیں۔ اُن میں وہ بری الذمہ ہے ۔ یہ اصول سورۂ بقرہ کے درجِ ذیل الفاظ سے مستنبط ہے:

لَا يُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا لَہَا مَا کَسَبَتۡ وَ عَلَیۡہَا مَا اکۡتَسَبَتۡ.

(2: 286)

’’یہ حقیقت ہے کہ اللہ کسی پر اُس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا۔ (اُس کا قانون ہے کہ) اُسی کو ملے گا جو اُس نے کمایا ہے اور وہی بھرے گا جو اُس نے کیا ہے۔ ‘‘

سورۂ اعراف میں مزید واضح کیا ہے کہ ایمان و عمل کی جو ذمہ داری لوگوں پر ڈالی گئی ہے اور جس کا صلہ ابدی جنت ہے، اُس کے بارے میں اُنھیں استعداد و اختیار کا کوئی خوف لاحق نہیں ہونا چاہیے۔ وہ مطمئن رہیں کہ وہ اُن کی حدِ استطاعت کے مطابق ہے:

وَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَا نُکَلِّفُ نَفۡسًا اِلَّا وُسۡعَہَاۤ ۫ اُولٰٓئِکَ اَصۡحٰبُ الۡجَنَّۃِ ۚ ہُمۡ فِیۡہَا خٰلِدُوۡنَ.

(7:42)

’’جو لوگ ایمان لائے ہیں اور جنھوں نے اچھے کام کیے ہیں ـــ اور ہم (اِس باب میں) کسی جان پر اُس کی استطاعت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتے ـــــ وہی جنت کے لوگ ہیں، وہ اُس میں ہمیشہ رہیں گے۔ ‘‘

اِس کا مطلب یہ ہے کہ آخرت کی جواب دہی کے معاملے میں انسان اُسی قدرمکلف ہے، جس قدر اُسے طاقت میسرہے۔ چنانچہ:

اولاً، اُس پر ایسی ذمہ داری نہیں ڈالی گئی، جسے اٹھانے سے وہ قاصر ہو،

ثانیاً، اکراہ و اضطرار اور جبر و استبداد میں اُسے احکام پرعمل کی رخصت عطا فرمائی ہے۔ امام امین احسن اصلاحی لکھتے ہیں:

’’... ہر شخص بس اُسی حد تک مکلف ہے، جس حد تک اُس کو طاقت عطا ہوئی ہے۔جو چیز اُس کے حدود ِ اختیار و امکان سے باہر ہے، اُس پر کوئی مواخذہ نہیں ہے۔ شریعت نے خود اپنے احکام و قوانین میں اِس امر کو ملحوظ رکھا ہے اور مجبوریوں کی صورت میں اِس پہلو سے بندوں کو رخصتیں دی ہیں۔ اِس وجہ سے نہ تو اللہ کو یہ پسند ہے کہ بندے اپنے آپ کو کسی تکلیفِ مالایطاق میں ڈالیں اور نہ کسی دوسرے ہی کے لیے یہ جائز ہے کہ اُن پر کوئی ایسا بوجھ ڈالے، جس کو وہ اٹھا نہ سکتے ہوں۔‘‘(تدبر قرآن 1/ 650)

اوامر ونواہی پر عمل میں یہ تکلیفِ مالا یطاق سے بریت کا اصول ہے۔ شریعت میں اِس کے دائرۂ اطلاق کے نمایاں پہلو یہ ہیں:

1۔ اضطرار میں حرمت کا استثنا

2۔ اکراہ میں رفع عقوبت

3۔ اضطرار و اکراہ میں رخصت کے حدود

4۔ اضطرار و اکراہ میں عزیمت کے حدود

5۔ رخصت اور عزیمت میں انتخاب

تفصیل درجِ ذیل ہے۔