vi۔ بڑی مونچھیں رکھنا

ڈاڑھی اور مونچھیں رکھنا ہمیشہ مردوں کا ایک شعار رہا ہے۔ عرب عموماً اِن کا التزام کرتے تھے۔ مشرکین عرب کے متکبرین کا طریقہ تھا کہ مونچھیں بڑی کر لیتے تھے اور اُن کے مقابلے میں ڈاڑھی چھوٹی رکھتے تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اِسی بنا پر اِس سے منع فرمایا اور مسلمانوں کو ہدایت کی کہ وہ اِس کے برعکس وضع اختیار کرتے ہوئے مونچھوں کو ہرحال میں پست رکھیں۔ یعنی اگر چہرے کے بالوں کو بڑھانا مقصود ہو تو مونچھوں کے بجاے ڈاڑھی کو بڑھائیں:

عن ابن عمر، قال: قال رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم: ’’خالفوا المشركين، أحفوا الشوارب، وأوفوا اللحى.“(مسلم، رقم 602)

’’حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (وضع قطع میں) مشرکین کی مخالفت اختیار کرو، (چنانچہ) مونچھیں ترشواؤ اور ڈاڑھیاں بڑھاؤ۔“

استاذِ گرامی لکھتے ہیں:

’’...تکبر ایک بڑا جرم ہے۔ یہ انسان کی چال ڈھال، گفتگو، وضع قطع، لباس اور نشست و برخاست، ہر چیز میں نمایاں ہوتا ہے۔ یہی معاملہ ڈاڑھی اور مونچھوں کا بھی ہے۔ بعض لوگ ڈاڑھی مونڈتے ہیں یا چھوٹی رکھتے ہیں، لیکن مونچھیں بہت بڑھا لیتے ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اِسے پسند نہیں کیا اور اِس طرح کے لوگوں کو ہدایت فرمائی ہے کہ متکبرین کی وضع اختیار نہ کریں۔ وہ اگر بڑھانا چاہتے ہیں تو ڈاڑھی بڑھا لیں، مگر مونچھیں ہرحال میں چھوٹی رکھیں۔‘‘(مقامات297)