vii۔مذاق اڑانا، عیب نکالنا اور برے القاب دینا

وحدتِ آدم اور وحدتِ مذہب، دونوں بنیادیں انسانوں کو دوسرے انسانوں کے مساوی کھڑا کرتی ہیں۔ اِن پہلوؤں سے انسانوں کے مابین کوئی تفریق اور امتیاز نہیں ہے۔ جو شخص بڑائی اور چھوٹائی کی لکیر کھینچتا ہے،وہ اصل میں انسانی مساوات اور اسلامی اخوت کو قبول کرنے سے انکار کرتا ہے۔ اِس کے بعد وہ خود کو برتر اور دوسروں کو کم تر سمجھنے لگتا ہے۔ اِس کا اظہار کرنے کے لیے وہ لوگوں کا مذاق اڑاتا ہے، اُن کی عیب جوئی کرتا ہےاور اُنھیں برے القاب سے پکارتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اِن تینوں سے منع فرمایا ہے اور اِن سے باز نہ رہنے والوں کو اپنی جانوں پر ظلم ڈھانے والے قرار دیا ہے۔ ارشاد ہے:

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا یَسۡخَرۡ قَوۡمٌ مِّنۡ قَوۡمٍ عَسٰۤی اَنۡ یَّکُوۡنُوۡا خَیۡرًا مِّنۡہُمۡ وَ لَا نِسَآءٌ مِّنۡ نِّسَآءٍ عَسٰۤی اَنۡ یَّکُنَّ خَیۡرًا مِّنۡہُنَّ ۚ وَ لَا تَلۡمِزُوۡۤا اَنۡفُسَکُمۡ وَ لَا تَنَابَزُوۡا بِالۡاَلۡقَابِ ؕ بِئۡسَ الِاسۡمُ الۡفُسُوۡقُ بَعۡدَ الۡاِیۡمَانِ ۚ وَ مَنۡ لَّمۡ یَتُبۡ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الظّٰلِمُوۡنَ.

(الحجرات 49: 11)

’’ایمان والو، (اِسی اخوت کا تقاضا ہے کہ) نہ (تمھارے) مرد دوسرے مردوں کا مذاق اڑائیں، ہو سکتا ہے کہ وہ اُن سے بہتر ہوں، اور نہ عورتیں دوسری عورتوں کا مذاق اڑائیں، ہو سکتا ہے کہ وہ اُن سے بہتر ہوں۔ اور نہ اپنوں کو عیب لگاؤ اور نہ آپس میں ایک دوسرے کو برے القاب دو۔ (یہ سب فسق کی باتیں ہیں، اور) ایمان کے بعد تو فسق کا نام بھی بہت برا ہے۔ اور جو (اِس تنبیہ کے بعد بھی) توبہ نہ کریں تو وہی اپنی جانوں پر ظلم ڈھانے والے ہیں۔‘‘

امام امین احسن اصلاحی اِس آیت کے الفاظ ’وَ لَا تَنَابَزُوۡا بِالۡاَلۡقَابِ‘ کی تفسیر میں لکھتے ہیں:

’’’تَنَابَزُوْا بِالْاَلْقَابِ‘ کے معنی آپس میں ایک دوسرے پر برے القاب چسپاں کرنا ہے۔ اچھے القاب سے ملقب کرنا جس طرح کسی فرد یا قوم کی عزت افزائی ہے، اُسی طرح برے القاب کسی پر چسپاں کرنا اُس کی انتہائی توہین و تذلیل ہے۔ ہجویہ القاب لوگوں کی زبانوں پر آسانی سے چڑھ جاتے ہیں اور اُن کا اثر نہایت دوررس اور نہایت پایدار ہوتا ہے۔ اُن کی پیدا کی ہوئی تلخیاں پشت ہا پشت تک باقی رہتی ہیں اور اگر معاشرے میں یہ ذوق اتنا ترقی کر جائے کہ ہر گروہ کے شاعر، ادیب، ایڈیٹر اور لیڈر اپنی ذہانت اپنے حریفوں کے لیے برے القاب ایجاد کرنے میں لگا دیں تو پھر اُس قوم کی خیر نہیں ہے۔ اُس کی وحدت لازماً پارہ پارہ ہو کے رہتی ہے۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ دور ِجاہلیت میں عربوں کے اندر یہ ذوق بدرجۂ کمال ترقی پر تھا۔ قبیلہ کا سب سے بڑا شاعر اور خطیب وہی مانا جاتا، جو دوسروں کے مقابل میں اپنے قبیلہ کے مفاخر بیان کرنے اور حریفوں کی ہجو و تحقیر میں یکتا ہو۔ اُن کے ہجویہ اشعار پڑھیے تو کچھ اندازہ ہو گا کہ اِس فن شریف میں اُنھوں نے کتنا نمایاں مقام حاصل کر لیا تھا۔ اُن کی اِس چیز نے اُن کو کبھی ایک قوم بننے نہیں دیا۔ وہ برابر اپنوں ہی کو گرانے اور پچھاڑنے میں لگے رہے۔ تاریخ میں پہلی مرتبہ اسلام نے اُن کو انسانی وحدت اور ایمانی ہم آہنگی سے آشنا کیا،جس کی بدولت وہ دنیا کی ہدایت و قیادت کے اہل بنے۔ قرآن نے یہاں اُن کو دورِ جاہلیت کے اِنھی فتنوں سے آگاہ کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمھیں ایمان و اسلام کی برکات سے نوازا ہے تو اُس کی قدر کرو۔ شیطان کے ورغلانے سے پھر اُنھی لاف زنیوں اور خاک بازیوں میں نہ مبتلا ہو جانا،جن سے اللہ نے تمھیں بچایا ہے۔‘‘

(تدبر قرآن 7/ 507- 508)