زیادتی و سرکشی :قرآن و حدیث میں مذکور بعض صورتیں

الۡبَغۡی‘ کے معنی و مفہوم کی درجِ بالا تفصیل سے یہ بات پوری طرح واضح ہو گئی ہے کہ یہ لفظ اُن حرمتوں کی جامع تعبیر ہے، جو حدود سے باغیانہ تجاوز کو ظاہر کرتی ہیں۔ اِس کے دائرے میں وہ تمام ممنوعات شامل ہیں، جوزیادتی، سرکشی اور ضدپر مبنی ہیں۔ اِس کی نمایاں ترین صورتیں شرک اور افترا علی اللہ ہیں۔ اِن دونوں صورتوں کو اللہ تعالیٰ نے چوتھی اور پانچویں حرمت کے طور پر الگ سے متعین فرمایا ہے۔ اِس کا سبب، ظاہر ہے کہ اِن کی غیرمعمولی شناعت ہے۔ اُنھیں یہاں بیان کرنے کے بجاے منفرد طور پر آگے بیان کیا جائے گا۔ یہاں اُن کے علاوہ قرآن و حدیث میں مذکور باقی نمایاں حرمتیں بیان کی جاتی ہیں:

مذہبی جبر،

فساد فی الارض،

قتل و جراحت،

خود کشی،

قذف،

دوسروں کا مال غصب کرنا،

چوری،

سود،

جوا،

قحبہ گری،

غرور و تکبر،

خلقی ساخت میں تبدیلی،

ظلم و زیادتی میں تعاون۔