ـــــ 2 ـــــ

انفس و آفاق میں

معمول کے خلاف ظاہر ہونے والی آیاتِ الٰہی

قرآنِ مجید میں ’آیۃ‘ کا لفظ انفس و آفاق کی ما فوق الفطرت نشانیوں کے لیے بھی استعمال ہوا ہے۔ اِن سے مراد وہ احوال و واقعات ہیں، جو اللہ کی قدرت کے عظیم الشان مظاہر کے طور پر خلافِ معمول رونما ہوتے ہیں۔ یہ پیغمبر کی وساطت سے نہیں، بلکہ اللہ کے براہِ راست حکم سے یا کارکنانِ قضا و قدر کے ذریعے سے واقع ہوتے ہیں۔ اِن کا ظہور شاذ و نادر اور ناگہاں ہوتا ہے، اِس لیے لوگ اِن کے بارے میں ناواقف اور غیر متوقع ہوتے ہیں۔ عرف و عادت اور عام دستور و قانون کے خلاف ہونے کی وجہ سے یہ حیرت و استعجاب کا باعث بنتے ہیں۔ لوگوں کو اِن کے بارے میں توجہ دلانے کی ضرورت نہیں پڑتی، اِن کی ندرت اور سنسنی خیزی از خود اُنھیں متوجہ کر لیتی ہے۔ اِس طرح کی آیات عام زمانے میں بھی ظاہر ہو سکتی ہیں، مگر زمانۂ نبوت و رسالت میں اِن کا ورود مقابلتاً زیادہ ہوتا ہے۔ اِن کا مقصد تنبیہ و تذکیر بھی ہوتا ہے، انعام و اکرام بھی اورتکلیف و تعذیب بھی۔ ہر صورت میں یہ اِس طور سے ظاہر ہوتی ہیں کہ نہ اِنھیں معمول کا واقعہ سمجھ کر نظر انداز کیا جا سکتا اور نہ اتفاقی حادثہ قرار دے کر فراموش کیا جا سکتا ہے۔

قرآنِ مجید میں اِس نوعیت کی جن آیات کا ذکر ہوا ہے، اُن میں سے چند بہ طور ِ مثال درج ذیل ہیں۔