ـــــ1ـــــ

انفس و آفاق میں

معمول کے مطابق ظاہر ہونے والی آیاتِ الٰہی

قرآنِ مجید میں بیش تر مقامات پر’آیۃ‘ کا لفظ اللہ کی اُن نشانیوں کے لیے استعمال ہوا ہے،جو انفس و آفاق میں ظاہر و باہر ہیں اور جن کا تعلق اللہ کی قدرت کے عادی امور سے ہے۔ اپنی حقیقت کے اعتبار سے بلا شبہ، یہ غیر معمولی ہیں، لیکن عام، مسلسل اور مستقل ظہور کے باعث یہ معمول کے واقعات اور مشاہدات کی صورت میں سامنے آتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عموماً یہ لوگوں کے لیے حیرت و استعجاب یا غور و فکر کا باعث نہیں بنتیں۔ تاہم، چونکہ یہ قطعی، واضح، معلوم و معروف اور ناقابلِ تردید ہوتی ہیں، اِس لیے قرآنِ مجید اِن کی طرف متوجہ کرتا ہے اور اِن کی بنا پر لوگوں کو اعترافِ حق کی دعوت دیتا ہے۔ کائنات میں ہر سو آشکارا یہ آیاتِ الٰہی قرآن میں جا بہ جا مذکور ہیں۔ مثال کے طور پر اللہ کا مردہ زمین سے لہلہاتے کھیت پیدا کرنا، انسان کو مٹی کے خمیر سے تخلیق کرنا، اُسی کی جنس سے اُس کا جوڑا بنانا اور پھر دونوں کے درمیان محبت اور سازگاری پیدا کرنا، آسمانوں اور زمین کو تخلیق کر کے اُن میں موافقت قائم کرنا، آسمانوں کو ستونوں کے بغیر کھڑا کرنا، سورج اور چاند کو ایک قانون کا پابند کرنا، زمین کو بچھانا اور اُس میں پہاڑوں کے کھونٹے گاڑنا، لوگوں کے اندر باہمی شناخت کے لیے رنگ و نسل اور زبانوں کا اختلاف رکھنا، آرام کے لیے رات اور کام کے لیے دن تخلیق کرنا، آسمانی بجلیوں سے خوف اور امید کی کیفیت میں مبتلا کرنا اور آسمان سے پانی برسا کر مردہ زمین کے اندر زندگی پیدا کر دینااِسی نوعیت کی آیاتِ بینات کی مختلف صورتیں ہیں۔

سورۂ روم (30) میں آیات 19تا 25 ایسا مقام ہے، جہاں اِس نوعیت کی متعدد آیات سےاستشہاد اور استدلال کیا گیا ہے۔ ا ِس مقام پر ’وَمِنۡ اٰیٰتِہٖ‘(اور اُس کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے) کے الفاظ کو بار بار دہرا کر اُن عظیم نشانیوں کی طرف متوجہ کیا ہے، جنھیں انسان محض اِس وجہ سے نظر انداز کر دیتا ہے کہ وہ اُس کے لیے معمول کا مشاہدہ اور روز مرہ کا تجربہ بن جاتی ہیں۔ارشاد فرمایا ہے:

يُخْرِجُ الْحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَيُخْرِجُ الْمَيِّتَ مِنَ الْحَيِّ وَيُحْيِي الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا ۚ وَكَذَٰلِكَ تُخْرَجُونَ. وَ مِنۡ اٰیٰتِہٖۤ اَنۡ خَلَقَکُمۡ مِّنۡ تُرَابٍ ثُمَّ اِذَاۤ اَنۡتُمۡ بَشَرٌ تَنۡتَشِرُوۡنَ.

’’(تمھیں تعجب ہے کہ یہ کس طرح ہو گا؟ دیکھتے نہیں ہو کہ) وہ زندہ کو مردے سے نکالتا ہے اور مردے کو زندہ سے نکالتا ہے اور زمین کو اُس کے مردہ ہو جانے کے بعد ازسرِنو زندہ و شاداب کر دیتا ہے۔ اِسی طرح تم بھی نکالے جاؤ گے۔اور اُس کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ اُس نے تم کو مٹی سے پیدا کیا، پھر دیکھتے دیکھتے تم انسان بن کر (زمین میں) پھیل جاتے ہو۔

وَمِنۡ اٰیٰتِہٖۤ اَنۡ خَلَقَ لَکُمۡ مِّنۡ اَنۡفُسِکُمۡ اَزۡوَاجًا لِّتَسۡکُنُوۡۤا اِلَیۡہَا وَ جَعَلَ بَیۡنَکُمۡ مَّوَدَّۃً وَّ رَحۡمَۃً ؕ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوۡمٍ یَّتَفَکَّرُوۡنَ.

اور اُس کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ اُس نے تمھاری ہی جنس سے تمھارے لیے جوڑے پیدا کیے تاکہ تم اُن کے پاس سکون حاصل کرو اور اِس کے لیے اُس نے تمھارے درمیان محبت اور رحمت پیدا کر دی۔ اِس میں، یقیناً ان لوگوں کے لیے بہت سی نشانیاں ہیں، جو غور کرنے والے ہیں۔

وَ مِنۡ اٰیٰتِہٖ خَلۡقُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ وَ اخۡتِلَافُ اَلۡسِنَتِکُمۡ وَ اَلۡوَانِکُمۡ ؕ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّلۡعٰلِمِیۡنَ.

زمین اور آسمانوں کی پیدایش اور تمھاری بولیوں اور رنگوں کا اختلاف بھی اُس کی نشانیوں میں سے ہے۔ اِس میں، یقیناً علم والوں کے لیے بہت سی نشانیاں ہیں۔

وَ مِنۡ اٰیٰتِہٖ مَنَامُکُمۡ بِالَّیۡلِ وَ النَّہَارِ وَ ابۡتِغَآؤُکُمۡ مِّنۡ فَضۡلِہٖ ؕ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوۡمٍ یَّسۡمَعُوۡنَ.

اِسی طرح تمھارا رات اور دن میں سونا اور اُس کا فضل تلاش کرنا بھی اُس کی نشانیوں میں سے ہے۔ اِس میں، یقیناً اُن لوگوں کے لیے بہت سی نشانیاں ہیں، جو (دل کے کانوں سے) سنتے ہیں۔

وَ مِنۡ اٰیٰتِہٖ یُرِیۡکُمُ الۡبَرۡقَ خَوۡفًا وَّ طَمَعًا وَّ یُنَزِّلُ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَیُحۡیٖ بِہِ الۡاَرۡضَ بَعۡدَ مَوۡتِہَا ؕ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوۡمٍ یَّعۡقِلُوۡنَ.

اور اُس کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ وہ تمھیں بجلیاں دکھاتا ہے، جو خوف بھی پیدا کرتی ہیں اور امید بھی، اور آسمان سے پانی برساتا ہے، پھر اُس سے زمین کو اُس کے مردہ ہو جانے کے بعد زندہ کر دیتا ہے۔ اِس میں، یقیناً اُن لوگوں کے لیے بہت سی نشانیاں ہیں، جو عقل سے کام لیتے ہیں۔

وَ مِنۡ اٰیٰتِہٖۤ اَنۡ تَقُوۡمَ السَّمَآءُ وَ الۡاَرۡضُ بِاَمۡرِہٖ ؕ ثُمَّ اِذَا دَعَاکُمۡ دَعۡوَۃً ٭ۖ مِّنَ الۡاَرۡضِ٭ۖ اِذَاۤ اَنۡتُمۡ تَخۡرُجُوۡنَ.

(الروم30 :19-25)

اور اُس کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ زمین و آسمان اُسی کے حکم سے قائم ہیں۔ پھر جب وہ زمین سے نکلنے کے لیے تم کو ایک ہی بار پکارے گا تو سنتے ہی نکل پڑو گے۔‘‘

اِس مقام پر جن نشانیوں کا ذکر آیا ہے، اُن کا مختصر تذکرہ درجِ ذیل ہے۔اِس سے لفظِ ’آیۃ‘کے مفہوم کے مذکورہ بالا اطلاق کو سمجھنا آسان ہو جائے گا۔