4۔ اصحابِ کہف کا قریباً دو سو سال تک سوئے رہنا

اصحاب کہف کو قرآنِ مجید نے ’کَانُوۡا مِنۡ اٰیٰتِنَا عَجَبًا‘ کے الفاظ سے تعبیر کیا ہے۔ یعنی وہ لوگ اللہ کی نشانیوں میں سے بہت عجیب نشانی تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اُن پر کم و بیش دو سو سال تک نیند کی حالت طاری رکھی اور پھر اُنھیں بیدار کر کے لوگوں کے سامنے پیش کر دیا۔ یہ واقعہ سورۂ کہف (18) کی آیات 9 تا 25 میں بیان ہوا۔ تمہیداً واقعے کا خلاصہ بیان فرمایا ہے اور اُس کے بعد تفصیلات ذکر کی ہیں۔ تمہیدی آیات یہ ہیں:

اَمۡ حَسِبۡتَ اَنَّ اَصۡحٰبَ الۡکَہۡفِ وَالرَّقِیۡمِ ۙ کَانُوۡا مِنۡ اٰیٰتِنَا عَجَبًا. اِذۡ اَوَی الۡفِتۡیَۃُ اِلَی الۡکَہۡفِ فَقَالُوۡا رَبَّنَاۤ اٰتِنَا مِنۡ لَّدُنۡکَ رَحۡمَۃً وَّ ہَیِّیٔۡ لَنَا مِنۡ اَمۡرِنَا رَشَدًا. فَضَرَبۡنَا عَلٰۤی اٰذَانِہِمۡ فِی الۡکَہۡفِ سِنِیۡنَ عَدَدًا. ثُمَّ بَعَثۡنٰہُمۡ لِنَعۡلَمَ اَیُّ الۡحِزۡبَیۡنِ اَحۡصٰی لِمَا لَبِثُوۡۤا اَمَدًا. (18: 9-12)

’’کیا تم سمجھتے ہو کہ غار اور رقیم والے ہماری نشانیوں میں سے بہت عجیب نشانی تھے؟ اُس وقت، جب اُن نوجوانوں نے غار میں پناہ لی، پھر (اپنے پروردگار سے) دعا کی کہ اے ہمارے رب، ہم کو تو خاص اپنے پاس سے رحمت عطا فرما اور ہمارے اِس معاملے میں تو ہمارے لیے رہنمائی کا سامان کر دے۔ اِس پر کئی برس کے لیے ہم نے اُس غار میں اُن کے کانوں پر تھپک دیا۔ پھر ہم نے اُن کو اٹھایا تاکہ دیکھیں کہ دونوں گروہوں میں سے کس نے اُن کے قیام کی مدت ٹھیک شمار کی ہے؟‘‘

اصحاب کہف کے بارے میں غالب گمان یہ ہے کہ یہ وہی لوگ ہیں، جو مسیحی تاریخ میں سات سونے والے (The Seven Sleepers)کہے جاتے ہیں۔ اِن کا تعلق افیسس (Ephesus) شہر سے ہے۔ یہ موجودہ ترکیہ (Turkiye)کے مغربی ساحل پر واقع ایک مشہور شہر تھا۔ یہ بت پرستی کا ایک بڑا مرکز تھا۔ 249ء سے 251ء تک یہاں قیصر ڈیسیس (Decius) کی حکومت قائم تھی۔ اِس عرصے کے دوران میں مسیح علیہ السلام کے پیرو اپنی دعوت لے کر یہاں پہنچے۔ اصحاب کہف اِسی شہر کے اعلیٰ گھرانوں سے تعلق رکھنے والے چند نوجوان تھے۔ اُنھوں نے پیروانِ مسیح کی دعوت کو صدقِ دل سے قبول کیا اور جوش و جذبے کے ساتھ اُس کی تبلیغ شروع کر دی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ پورا معاشرہ اُن کے خلاف اٹھ کھڑا ہوا اور یہ خطرہ پیدا ہو گیا کہ کہ اُنھیں سنگ سار کر دیا جائے گا۔ اِس سے بچنے کے لیے وہ شہر سے باہر ایک بڑے غار میں پناہ گزین ہو گئے۔ اللہ تعالیٰ نے اُن کی حفاظت فرمائی اور طویل مدت کے لیے اُن پر نیند طاری کر دی۔ فرشتے اُن کے پہلو بدلتے رہے۔ اُن کے کتے کو غار کے دہانے پر ایسے بٹھا دیا گیاکہ جیسے وہ پہرا دے رہا ہو۔ اللہ کے حکم سے اور اُس کے فرشتوں کی نگرانی میں یہ لوگ کم و بیش 196 سال سوتے رہے۔ پھر بالآخر قیصر تھیوڈوسیس ثانی(Theodosius II) کی سلطنت کے اڑتیسویں سال 444ء یا 447ء میں یہ لوگ بیدار ہوئے۔ اِس دوران میں مسیحی مبلغین کی تبلیغ سے رومی شہنشاہ قسطنطین (272ء- 337ء) عیسائیت قبول کر چکا تھا اور اِس کے نتیجے میں ساری رومی سلطنت میں مسیح علیہ السلام کا مذہب پھیل گیا تھا۔ چنانچہ جب یہ لوگ بیدار ہوئے تو ہر طرف مسیحیت کا غلبہ تھا۔ باہر کے حالات سے بے خبراِن لوگوں نے اپنے میں سے ایک شخص کو شہر میں بھیجا تاکہ وہ وہاں سے کھانا لے کر آئے۔ جب کھانا خریدنے کے لیے اُس نے قیصر ڈیسیس کے زمانے کا سکہ پیش کیا تو دکان دار کو شک ہوا کہ شاید اُسے پرانے زمانے کا کوئی دفینہ ملا ہے۔ اِس پر دونوں میں تکرار ہوئی، جس سے لوگ جمع ہو گئے۔ معاملہ بڑھتے بڑھتے حکام تک پہنچ گیا۔ اُس شخص کو اُن کے سامنے پیش کیا گیا۔ وہاں سوالات ہوئے تو اُسے معلوم ہوا کہ قیصر ڈیسیس کو مرے ہوئے تو برس ہا برس بیت چکے ہیں۔ یہ جان کر اُس نے اپنی ساری داستان اُنھیں سنا دی۔ اُسے سن کر حکام بہت حیران ہوئے اور تصدیق کے لیے اُس کو لے کر غار کی طرف چل پڑے۔ لوگوں کا ایک ہجوم اُن کے ساتھ تھا۔ وہاں پہنچ کر یہ بات متحقق ہو گئی کہ وہ فی الواقع قیصر ڈیسیس کے زمانے کے لوگ ہیں۔ نئے رومی حکمران قیصر تھیوڈوسیس کو اِس غیر معمولی خبر سے مطلع کیا گیا۔ وہ اُن کی زیارت کے لیےاحتراماً پیدل چل کروہاں آیا اور آکر اُن سے برکت لی۔ اِس کے بعد یہ ساتوں نوجوان غار میں جا کر لیٹ گئےاور اچانک وفات پا گئے۔

قرآنِ مجید نے اِس واقعے کو آیت قرار دیا ہے۔ یہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ کی ایک خارقِ عادت نشانی ہے، مگر سوال یہ ہے کہ اِس کے ظاہر کرنے کا سبب کیا تھا؟ استاذِ گرامی نے اِس کے بارے میں اپنا رجحان بیان کرتے ہوئے لکھا ہے:

’’اِس حسی دلیل کی ضرورت غالباً اِس لیے پیش آئی کہ اُس زمانے میں مسیحی دعوت یونان کے فلسفے اور رومی شرک و بت پرستی کی روایت سے نبردآزما تھی۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اپنی یہ نشانی دکھائی تاکہ زندگی بعد موت کے معاملے میں عقلی دلائل کے ساتھ یہ حسی دلیل بھی پیش کر دی جائے۔ اِس سے مقصود یہ تھا کہ نئے نئے جو لوگ ہزاروں کی تعداد میں مسیحی ہوئے ہیں، اُن کے لیے دین کا یہ بنیادی عقیدہ فلسفیانہ موشگافیوں کا موضوع بن کر نہ رہ جائے۔ بائیبل اور قرآن، دونوں سے معلوم ہوتا ہے کہ زمانۂ رسالت میں اِس طرح کے حسی دلائل اِس سے پہلے بھی وقتاً فوقتاً سامنے آتے رہے ہیں۔‘‘

(البیان 3/ 131)

____________