آسمان کے مختلف مظاہر بھی اللہ کی نشانیوں کے عکاس ہیں۔ بجلی چمک کر بارش کی خبر دیتی ہے۔ یہ بارش کسی بستی کے لیے رحمت کی برسات بنتی اور کسی بستی میں عذاب کا طوفان لے کر آتی ہے۔ اِس طرح بہ یک وقت آس اور امید اور خوف و ہراس کی علامت بن کر سامنے آتی ہے۔ چنانچہ ایک ہی چیز ہے، جس کو پروردگار چاہے تو انعام کی صورت دے دے اور چاہے تو سزا بنا دے۔
استاذِ گرامی لکھتے ہیں:
’’یعنی (یہ بجلیاں) اپنے وجود سے تعلیم دیتی ہیں کہ نعمت و نقمت، سب خدا ہی کے ہاتھ میں ہے اور وہ جزا و سزا، دونوں پر پورا اختیاررکھتا ہے اور اُس کے لیے اپنی جس نعمت کو چاہے، نقمت اور نقمت کو نعمت میں تبدیل کر سکتا ہے۔‘‘(البیان 4/55)
یہی معاملہ بارش کا ہے۔وہ رحمت اور بخشش کا باعث بھی بنتی ہے اور قہر اور غضب کا بھی۔ اِس کا فیصلہ اللہ کے اختیار میں ہے کہ وہ کب اُسے کھیتوں کھلیانوں کی آب یاری کا حکم دیتا ہے اور کب کھڑی فصلوں کو بہا لے جانے کا فرمان جاری کرتا ہے۔ یہاں بارش کے حوالے سے ’فَیُحۡیٖ بِہِ الۡاَرۡضَ بَعۡدَ مَوۡتِہَا‘ (پھر اُس سے زمین کو اُس کے مردہ ہو جانے کے بعد زندہ کر دیتاہے۔) کے الفاظ آئے ہیں۔ مولانا ابوالاعلیٰ مودودی اِس کی وضاحت میں لکھتے ہیں:
’’یہ چیز ایک طرف حیات بعد الموت کی نشان دہی کرتی ہے، اور دوسری طرف یہی چیز اِ س امر پر بھی دلالت کرتی ہے کہ خدا ہے، اور زمین و آسمان کی تدبیر کرنے والا ایک ہی خدا ہے۔ زمین کی بے شمار مخلوقات کے رزق کا انحصار اُس پیداوار پر ہے، جو زمین سے نکلتی ہے۔ اُس پیداوار کا انحصار زمین کی صلاحیتِ بار آوری پر ہے۔ اِس صلاحیت کے روبکار آنے کا انحصار بارش پر ہے، خواہ وہ براہِ راست زمین پر برسے، یا اُس کے ذخیرے سطح زمین پر جمع ہوں، یا زیرِ زمین چشموں اور کنوؤں کی شکل اختیار کریں، یا پہاڑوں پر یخ بستہ ہو کر دریاؤں کی شکل میں بہیں۔ پھر اِس بارش کا انحصار سورج کی گرمی پر، موسموں کے رد و بدل پر، فضائی حرارت و برودت پر، ہواؤں کی گردش پر، اور اُس بجلی پر ہے، جو بادلوں سے بارش برسنے کی محرک بھی ہوتی ہے اور ساتھ ہی ساتھ بارش کے پانی میں ایک طرح کی قدرتی کھا د بھی شامل کر دیتی ہے۔ زمین سے لے کر آسمان تک کی اِن تمام مختلف چیزوں کے درمیان یہ ربط اور مناسبتیں قائم ہونا، پھر اِن سب کا بے شمار مختلف النوع مقاصد اور مصلحتوں کے لیے صریحاً سازگار ہونا، اور ہزاروں لاکھوں برس تک اِن کا پوری ہم آہنگی کے ساتھ مسلسل سازگاری کرتے چلے جانا، کیا یہ سب کچھ محض اتفاقاً ہو سکتا ہے؟ کیا یہ کسی صانع کی حکمت اور اُس کے سوچے سمجھے منصوبے اور اُس کی غالب تدبیر کے بغیر ہو گیا ہے؟ اور کیا یہ اِس بات کی دلیل نہیں ہے کہ زمین، سورج، ہوا، پانی، حرارت، برودت، اور زمین کی مخلوقات کا خالق اور رب ایک ہی ہے؟‘‘ (تفہیم القرآن 3/ 748-749)