قرآنِ مجید نے مختلف مقامات پر اُن عظیم الشان انعامات کا ذکر کیا ہے،جو بنی اسرائیل کو عطا کیے گئے۔ اِن میں سے بہت سی نعمتوں کی نوعیت خرقِ عادت کی ہے۔ بعض اُن کے انبیا کے توسط سے اور بعض براہِ راست نازل کی گئیں۔ اللہ تعالیٰ نے اِنھیں ’اٰیَۃٍ بَیِّنَۃٍ‘ (واضح نشانیاں) کے الفاظ سے تعبیر فرمایا ہے۔ سورۂ بقرہ میں ہے:
سَلۡ بَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ کَمۡ اٰتَیۡنٰہُمۡ مِّنۡ اٰیَۃٍۭ بَیِّنَۃٍ.... (2: 211)
’’بنی اسرائیل سے پوچھو، ہم نے اُن کو کتنی واضح نشانیاں دیں، (مگر اِس سے کیا فائدہ ہوا)؟ ...۔‘‘
اِن آیاتِ بینات میں سے دو نمایاں آیات یہ ہیں کہ اُن پر بدلیوں کا سایہ کیا گیا اور من و سلویٰ اتارا گیا۔ فرمایا ہے:
وَظَلَّلۡنَا عَلَیۡکُمُ الۡغَمَامَ وَ اَنۡزَلۡنَا عَلَیۡکُمُ الۡمَنَّ وَ السَّلۡوٰی ؕ کُلُوۡا مِنۡ طَیِّبٰتِ مَا رَزَقۡنٰکُمۡ.... (2: 57)
’’اور تم پر بدلیوں کا سایہ کیا اور تم پر من و سلویٰ اتارے، کھاؤ یہ پاکیزہ چیزیں جو ہم نے تمھیں دی ہیں...۔‘‘
یہ اصل میں وہ انعامات ہیں، جو اللہ تعالیٰ نے اُنھیں صحراے سینا میں عطا فرمائے۔ اِس چٹیل صحرا میں نہ اُن کے پاس مکانات تھے، نہ خیمے اور خرگاہیں تھیں۔ ہزاروں کی تعداد میں لوگ کھلے آسمان تلے رہ رہے تھے۔ اِس صورتِ حال میں اُنھیں دھوپ کی حدت سے محفوظ رکھنے کے لیے اللہ نے اُن پر بدلیوں کا سایہ کیے رکھا۔ مولانا ابوالاعلیٰ مودودی لکھتے ہیں:
’’.. بنی اسرائیل لاکھوں کی تعداد میں مصر سے نکل کر آئے تھے اور سینا کے علاقے میں مکانات کا تو کیا ذکر، سر چھپانے کے لیے اُن کے پاس خیمے تک نہ تھے۔ اُس زمانے میں اگر خدا کی طرف سے ایک مدت تک آسمان کو ابر آلود نہ رکھا جاتا تو یہ قوم دھوپ سے ہلاک ہو جاتی۔‘‘ (تفہیم القرآن1/77-78)
اللہ نے اُن کی سکونت کے لیے جہاں بادلوں کا سائبان تان دیا، وہاں خوانِ نعمت کے طور پر من و سلویٰ کا اہتمام کیا۔ اِس خوان سے مستفید ہونے کے لیے نہ اُنھیں زمین کو تیار کرنا پڑتا تھا، نہ فصل بونے اور کاٹنے کی مشقت اٹھانی پڑتی تھی اور نہ کھانا تیار کرنے کا ترددکرنا پڑتا تھا۔ اِس خوان کو قرآن نے من و سلویٰ سے تعبیر کیا ہے۔ استاذِ گرامی نے بائیبل کی کتاب خروج کے حوالے سے اِس کے بارے میں لکھا ہے:
’’یہ (مَنّ) شبنم کی طرح کی ایک چیز تھی، جو زمین پر ٹپکتی تھی اور پالے کے دانوں کی طرح جم جاتی تھی۔ بنی اسرائیل اِسے سورج کی تمازت بڑھنے سے پہلے جمع کر لیتے تھے۔ تمازت بڑھتے ہی یہ دانے پگھل جاتے تھے۔ ایک بے آب و گیاہ صحرا میں جہاں غذا کے اسباب مفقود تھے، یہ ایک عظیم نعمت تھی،جو بغیر کوئی مشقت اٹھائے بنی اسرائیل کو خدا کے حکم پر پیغمبر کے ساتھ ہجرت کرنے کے صلے میں حاصل ہوئی۔ ’مَنّ‘ کے معنی فضل و عنایت کے ہیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ اِسی مناسبت سے اِس کانام ’مَنّ‘ قرار پایا۔
اِس (السَّلۡوٰی)سے مراد وہ پرندے ہیں،جو اللہ تعالیٰ نے صحراے سینا میں بنی اسرائیل کے لیے بھیجے، یہ بٹیروں سے ملتے جلتے تھے اور بٹیروں ہی کی طرح نہایت آسانی سے شکار ہو جاتے تھے۔ ‘‘ (البیان 1/68-69)