اِسی طرح کی ایک اور نشانی وہ ہے، جب اللہ کے حکم پر کوہِ طور بنی اسرائیل کے سروں پر معلق ہو گیا۔ یعنی پہاڑ اپنی جگہ سے اکھڑا اور شامیانے کی طرح اُن کے اوپر لٹکنے لگا۔ یہ غیر معمولی واقعہ اُس وقت رونما ہوا، جب اللہ نے وادیِ سینا میں بنی اسرائیل پر احکام شریعت کی الواح نازل فرمائیں۔ اُس موقع پر اُن سے عہد لیا گیا کہ وہ تورات کو مضبوطی سے تھامے رکھیں گے اور اُس کے احکام و ہدایات پر پوری طرح عمل پیرا رہیں گے۔ سورۂ بقرہ میں ارشاد ہے:
وَ اِذۡ اَخَذۡنَا مِیۡثَاقَکُمۡ وَرَفَعۡنَا فَوۡقَکُمُ الطُّوۡرَ ؕ خُذُوۡا مَاۤ اٰتَیۡنٰکُمۡ بِقُوَّۃٍ وَّاذۡکُرُوۡا مَا فِیۡہِ لَعَلَّکُمۡ تَتَّقُوۡنَ. (2: 63)
’’اور یاد کرو،جب ہم نے تم سے عہد لیا تھا اور (اِس کے لیے) طور کو تم پر اٹھایا تھا اور کہا تھا کہ اُس چیز کوپوری قوت کے ساتھ پکڑو،جو ہم نے تمھیں دی ہے، اور جو کچھ اُس میں (لکھا) ہے، اُسے یاد رکھو تاکہ تم (اللہ کے غضب سے) بچے رہو۔‘‘
سورۂ اعراف(7) کی آیت 171 میں اِس واقعے کے لیے ’وَ اِذۡ نَتَقۡنَا الۡجَبَلَ فَوۡقَہُمۡ کَاَنَّہٗ ظُلَّۃٌ وَّ ظَنُّوۡۤا اَنَّہٗ وَاقِعٌۢ بِہِمۡ‘ (جب ہم نے پہاڑ کو اٹھا کر اُن کے اوپر معلق کر دیا تھا، گویا وہ سائبان ہے اور وہ گمان کر رہے تھے کہ وہ اُن پر گرا ہی چاہتاہے) کے الفاظ آئے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ کے حکم سے ایک عظیم پہاڑ اُن کے سروں پر لٹکنا شروع ہو گیا اور وہ خیال کرنے لگے کہ یہ اب گرا کہ اب گرا۔ اِس سے ظاہر ہے کہ اُن پر اللہ کی قدرت کی ہیبت طاری ہو گئی۔
استاذِ گرامی کے نزدیک یہ واقعہ اللہ کی قدرت اورجلالت کا مظاہرہ تھا۔ اِس سے یہ واضح کرنا مقصود تھا کہ جو ہستی اُن سے میثاق کر رہی ہے، وہ قادرِ مطلق ہے۔ کوئی چیز اُس کی دسترس سے باہر نہیں ہے۔ اگر اُنھوں نے اِس معاہدے کی خلاف ورزی کی تو وہ اِس واقعے کی بہ دولت اپنے انجام کا بہ خوبی اندازہ کر سکتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں:
’’قرآن اور بائیبل، دونوں سے معلوم ہوتا ہے کہ بنی اسرائیل سے یہ عہد پہاڑ کے دامن میں اِس طرح لیا گیا کہ طور اپنی جگہ سے اکھڑ کر سائبان کی طرح اُن کے سروں پر لٹک رہا تھا اور اُنھیں لگتا تھا کہ وہ اُن پر گر کر رہے گا۔ قرآن نے یہاں اِس حالت کو پہاڑ کے اُن پر اٹھا لینے سے تعبیر کیا ہے۔ یہ خدا کی قدرت اور اُس کے جلال کا ایک مظاہرہ تھا، جو اِس لیے کیا گیا کہ بنی اسرائیل ہمیشہ اِس بات کو یاد رکھیں کہ جس خدا کے ساتھ وہ یہ عہد باندھ رہے ہیں، اُس کی قدرت کتنی بے پناہ ہے اور اُنھوں نے اگر اِس کی خلاف ورزی کی تو وہ اُن کے ساتھ کیا معاملہ کر سکتا ہے۔‘‘ (البیان 1/78)