5۔گردشِ لیل و نہار

رات اور دن کے آنے جانے کو بھی آیات میں شمار کیا گیا ہے۔ ارشاد ہے: ’’اِسی طرح تمھارا رات اور دن میں سونا اور اُس کا فضل تلاش کرنا بھی اُس کی نشانیوں میں سے ہے۔ اِس میں، یقیناً اُن لوگوں کے لیے بہت سی نشانیاں ہیں، جو (دل کے کانوں سے) سنتےہیں۔ ‘‘ لیل و نہار کی آمد و شد، بہ ظاہر نہایت معمول کا واقعہ ہے، مگر اِس کے اندر پروردگار کے غیر معمولی علم و حکمت اور ربوبیت کی حقیقت پوری طرح آشکار ہے۔ اللہ جانتا ہے کہ جو وجود اُس نے تخلیق کیا ہے، اُس کو ذہنی، روحانی اور جسمانی آرام کی ضرورت ہے۔ اِس کے بغیر وہ زیادہ دیر تک کارکردگی کے قابل نہیں رہتا۔ پھر ماحول کی یکساں اور مستقل کیفیت زندگی کی سرگرمی کو بے کیف بنا دیتی ہے۔ انسان کی اِس ڈھب پر تخلیق کا تقاضا ہے کہ اُس کے رہنے کے لیے تیار کی گئی سکونت گاہ اِس رنگ ڈھنگ کے مطابق ہو۔ یعنی خالق اگر علیم و حکیم ہے تو وہ مخلوق کی ضرورتوں سے کما حقہ آگاہ ہو گا اور کمال ربوبیت سے اُن کی تکمیل کا اہتمام بھی کرے گا۔ یہ ضرورت اور اِس کی تکمیل کے اسباب دلیل ہیں کہ انسان اور کائنات اتفاقاً وجود میں نہیں آ گئے، بلکہ اِنھیں ایک نہایت علیم و حکیم ہستی نے تخلیق کیا ہے۔

استاذِ گرامی اِس آیت کی وضاحت میں لکھتے ہیں:

’’فرمایا کہ وہ اگر تنہا اِسی بات پر غور کریں کہ اُن کے خالق نے انسانی جسم کے لیے نیند اور آرام کی ضرورت اور معاش کی جدوجہد کو رات اور دن میں تقسیم کر کے کس رحمت و شفقت کے ساتھ اُنھیں اور اُن کے ماحول کو ہم آہنگ کر دیا ہے۔ کیا یہ چیز صاف صاف ایک رب رحیم و کریم کے وجود کا پتا نہیں دے رہی؟ کیا اِس کے بعد بھی انسان کہہ سکتا ہے کہ یہ سب کچھ اتفاقاً ہو گیا ہے یا اِس میں ایک سے زیادہ خداؤں کی خدائی متصور ہو سکتی ہے یا اِس کائنات کا خالق اِسے یوں ہی ختم ہو جانے دے گا؟ اِس میں، اگر غور کیجیے تو مخالفین کے رویے پر ایک نوعیت کی تعریض بھی ہے کہ سنتے بھی ہیں تو سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے، بلکہ اندھے اور بہرے ہو کر مخالفت کے لیے آستینیں چڑھا لیتے ہیں۔‘‘

(البیان 4/54-55)

سورۂ یونس میں اِس نشانی کو کائنات کے انجام کی ایک علامت کے طور پر بیان فرمایا ہے۔ ارشاد ہے:

اِنَّ فِی اخۡتِلَافِ الَّیۡلِ وَ النَّہَارِ وَ مَا خَلَقَ اللّٰہُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ لَاٰیٰتٍ لِّقَوۡمٍ یَّتَّقُوۡنَ. (10: 6)

’’یقیناً رات اور دن کے الٹ پھیر میں اور جو کچھ زمین اور آسمانوں میں اللہ نے پیدا کیا ہے، اُس میں اُن لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں، جو ڈرتےہیں۔‘‘

مطلب یہ ہے کہ ایام کی گردش اِس امر کی نشانی ہے کہ کائنات ایک عظیم نتیجے تک پہنچنے والی ہے،یہ بے مقصد ہر گز نہیں ہے۔امام امین احسن اصلاحی نے بیان کیا ہے:

’’اختلافِ لیل و نہار سے اُس تعاقب کی طرف بھی اشارہ ہو رہا ہے، جو وہ ایک دوسرے کا پوری سرگرمی سے کر رہے ہیں، جس سے یہ رہنمائی ملتی ہے کہ یہ گردش بے غایت و بے مقصد نہیں ہے، بلکہ ایک عظیم نتیجہ پر منتہی ہونے والی ہے۔ دوسرے، اِس عظیم نظام ربوبیت کی طرف بھی اِس میں اشارہ ہے، جو رات اور دن کے اختلافِ مزاج کے اندر مضمر ہے کہ دن انسان کے لیے معاش و معیشت کی سرگرمیوں کا میدان گرم کرتا ہے اور رات اُس کے لیے راحت و سکون کا بستر بچھاتی ہے۔ اِس نظام پر جو شخص بھی غور کرتا ہے، وہ لازماً اِس نتیجہ تک پہنچتا ہے کہ اضداد کے اندر ایک مشترک مقصد کے لیے یہ حیرت انگیز توافق اُسی شکل میں وجود میں آ سکتا ہے، جب یہ مانا جائے کہ یہ سارا کارخانہ صرف ایک قادر و قیوم کے ارادے کے تحت کام کر رہا ہے اور پھر اِس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ جس نے ربوبیت و پرورش کا یہ سارا نظام کھڑا کیا ہے اور اُس کو اِس اہتمام سے چلا رہا ہے،وہ انسان کو مطلق العنان اور غیر مسئول نہیں چھوڑے گا،بلکہ اِس کے بعد ایک ایسا دن لازماً آنا ہے، جس میں وہ اِس ربوبیت کا حق پہچاننے والوں کو اُن کی حق شناسی کا انعام دے گا اور اِس سے بے پروا رہنے والوں کو جہنم میں جھونک دے گا۔ یہی نتیجہ اِس کائنات کے تمام اجزا اور اِس کے تمام اضداد پر غور کرنے سے حاصل ہوتا ہے اور یہی حاصل ہے، جو انسان کی رہنمائی آخرت اور اِس جزا و سزا کی طرف کرتا ہے۔‘‘(تدبر قرآن4/26 )