3۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی روایت

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کے صاحب زادے ہیں۔ اِن کی پیدایش ہجرت سے 3 سال قبل شعبِ ابی طالب میں ہوئی تھی۔ شق قمر کا واقعہ اِن کی پیدایش سے پہلے کا ہے۔بخاری و مسلم میں درج اُن سے منقول روایت کے مطابق اُنھوں نے فقط اتنی بات بیان کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں چاند پھٹ گیا تھا۔

روایت کے مختلف طرق درجِ ذیل ہیں:

حدثنا يحيى بن بكير ، قال: حدثنی بكر ، عن جعفر ، عن عراك بن مالك ، عن عبيد اللّٰہ بن عبد اللّٰہ بن عتبة بن مسعود ، عن ابن عباس رضي اللّٰہ عنهما، قال: انشق القمر في زمان النبي صلى اللّٰہ عليه وسلم .

(بخاری، رقم 4866)

’’ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے بکر نے بیان کیا، اُن سے جعفر نے، اُن سے عراک بن مالک نے، اُن سے عبید اللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود نے بیان کیا کہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں چاند پھٹ گیا تھا۔‘‘

حدثنا موسى بن قريش التميمي ، حدثنا إسحاق بن بكر بن مضر ، حدثني ابي ، حدثنا جعفر بن ربيعة ، عن عراك بن مالك ، عن عبید اللّٰہ بن عبد اللّٰہ بن عتبۃ بن مسعود، عن ابن عباس، قال: إن القمر انشق على زمان رسول اللّٰہ صلى اللّٰہ عليه وسلم.

(مسلم، رقم 7257)

’’ہم سے موسىٰ بن قریش بن التمیمی نے بیان کیا، اُنھوں نے کہا کہ ہم سے اسحاق بن بکر بن مضر نے بیان کیا، اُنھوں نے کہا کہ مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، اُنھوں نے کہا کہ ہم سے جعفر بن ربیعہ نے بیان کیا، اُن سے عراك بن مالك نے بیان کیا ، اُن سے عبید اللہ بن عبد اللہ بن عتبہ بن مسعود نے بیان کیا کہ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں چاند پھٹ گیا تھا۔‘‘