حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ مدنی صحابی ہیں۔ یہ ہجرت سے دس سال پہلے یثرب (مدینہ) میں پیدا ہوئے۔ شق قمر کے موقع پر اِن کی عمر کم و بیش پانچ سال تھی اور یہ یثرب میں مقیم تھے۔ اِن سے منقول روایت میں بیان ہوا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں چاند پھٹ کر دو ٹکڑے ہو گیا تھا۔
روایت کے مختلف طرق درجِ ذیل ہیں:
ں بیان ہوا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں چاند پھٹ کر دو ٹکڑے ہو گیا تھا۔
روایت کے مختلف طرق درجِ ذیل ہیں:
حدثنا مسدد ، حدثنا يحيى حدثنا شعبة ، عن قتادة ، عن انس ، قال: انشق القمر فرقتين.
(بخاری، رقم 4868)
’’ہم سے مسدد نے بیان کیا، اُنھوں نے کہا کہ ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، اُن سے شعبہ نے، اُن سے قتادہ نے اور اُن سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ چاند دو ٹکڑوں میں پھٹ گیا تھا۔‘‘
وحدثنا محمد بن المثنى ، حدثنا محمد بن جعفر ، وابو داؤد . وحدثنا ابن بشار ، حدثنا يحيى بن سعيد ، ومحمد بن جعفر، وابو داؤد كلهم، عن شعبة ، عن قتادة ، عن انس ، قال: انشق القمر فرقتين، وفي حديث ابي داؤد: انشق القمر على عهد رسول اللّٰہ صلى اللّٰہ عليه وسلم.
(مسلم رقم، 7256)
’’ہم سے محمد بن مثنی نے بیان کیا، اُنھوں نے کہا کہ ہم سے محمد بن جعفر اور ابوداؤد نے بیان کیا، اُنھوں نے کہا کہ ہم سے ابنِ بشار نے بیان کیا، اُنھوں نے کہا کہ ہم سے یحییٰ بن سعید، محمد بن جعفر اور ابوداؤد نے بیان کیا، اُن سے شعبہ نے بیان کیا، اُن سے قتادہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ چاند دو ٹکڑوں میں پھٹ گیا تھا۔ اور ابوداؤد کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں چاند پھٹ گیا تھا۔‘‘