حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ مدنی صحابی ہیں۔ یہ ہجرت سے تقریباً 30 سال پہلے یثرب میں پیدا ہوئے۔ شق قمر کے موقع پر اِن کی عمر کم و بیش 25 سال تھی اور یہ یثرب (مدینہ) میں مقیم تھے۔ اِن سے منقول روایت کا خلاصہ یہ ہے:
* ’’مصنف عبدالرزاق‘‘ میں ہے کہ حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ نے جمعے کا خطبہ دیتے ہوئے پہلے سورۂ قمر کی آیات پڑھیں اور پھر اِس واقعے کا ذکر کیا۔
* اُنھوں نے بتایا کہ شق قمر کا واقعہ چونکہ ظاہر ہو چکا ہے، اِس لیے اب قیامت بہت قریب ہے۔
روایت یہ ہے:
عن ابن عيينة، عن عطاء بن السائب، عن أبي عبد الرحمن السلمي قال: سمعت حذيفة يوم الجمعة وهو على المنبر قرأ اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ، وَانْشَقَّ الْقَمَرُ، فقال: قد اقتربت الساعة وقد انشق القمر فاليوم المضمار وغدًا السباق. (رقم 5285)
’’ابن عیینہ بیان کرتے ہیں، اُن سے عطا بن سائب بیان کرتے ہیں کہ ابوعبد الرحمٰن سلمی فرماتے ہیں کہ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ جمعہ کے دن منبر پر خطبہ دے رہے تھے۔ اُنھوں نے سورۂ قمر کی ابتدائی آیات تلاوت کیں: اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ۔ پھر فرمایا: قیامت قریب آ گئی ہے اور چاند دو ٹکڑے ہو چکا ہے۔ چنانچہ آج کا دن تیاری کا دن ہے اور کل کا دن سبقت کر کے آگے بڑھنے کا دن ہو گا۔“