3۔ حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ کی روایت

حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ مطعم بن عدی کے صاحب زادے ہیں۔ مطعم بن عدی وہی شخصیت ہیں، جنھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو طائف سے واپسی پر پناہ دی تھی۔ حضرت جبیر رضی اللہ عنہ صلح حدیبیہ اورفتح مکہ کے درمیانی زمانے میں مشرف بہ اسلام ہوئے۔ شق قمر کے موقع پر وہ مکہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب موجود تھے۔ اُن سے منقول ترمذی اور ’’المعجم الکبیر للطبرانی‘‘ کی روایات کا خلاصہ یہ ہے:

* ترمذی میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں چاند پھٹ کر دو ٹکڑے ہو گیا۔

* ایک ٹکڑا ایک پہاڑ پر اور دوسرا دوسرے پہاڑ پر آ گیا۔

* کفار میں سے بعض لوگوں نے کہا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم پر جادو کر دیا ہے۔ بعض نے کہا کہ وہ ہم پر تو جادو کر سکتے ہیں، مگر سب لوگوں پر جادو تو نہیں کر سکتے۔

’’المعجم الکبیر للطبرانی‘‘ میں ہے کہ اِس موقع پر حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے۔

روایات درجِ ذیل ہیں:

حدثنا عبد بن حميد ، حدثنا محمد بن كثير ، حدثنا سلیمان بن کثیر، عن حصين ، عن محمد بن جبیر بن مطعم، عن ابيه ، قال: انشق القمر على عهد النبي صلى اللّٰہ عليه وسلم حتى صار فرقتين على هذا الجبل وعلى هذا الجبل، فقالوا: سحرنا محمد، فقال بعضهم: لئن كان سحرنا ما يستطيع ان يسحر الناس كلهم.

(ترمذی، رقم 3289)

’’ہم سے عبد بن حمید نے بیان کیا، اُنھوں نے کہا کہ ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، اُنھوں نے کہا کہ ہم سے سلیمان بن کثیر نے بیان کیا، اُن سے حصین نے بیان کیا، اُن سے محمد بن جبیر اپنے والد (جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ) کے حوالے سے بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں چاند پھٹ کر دو ٹکڑے ہو گیا، ایک ٹکڑا اِس پہاڑ پر اور ایک ٹکڑا اُس پہاڑ پر۔ لوگوں نے کہا: محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) نے ہم پر جادو کر دیا ہے، لیکن اُنھی میں سے بعض نے کہا: اگر اُنھوں نے ہم پر جادو کر دیا ہے تو (باہر کے) سبھی لوگوں کو جادو کے زیرِاثر نہیں لا سکتے۔‘‘

حدثنا العباس بن حمدان الحنفي، حدثنا علي بن المنذر الطريقي، حدثنا محمد بن فضيل، عن حصين، عن سالم بن أبي الجعد، عن محمد بنِ جبير، عن أبيه، قال: انشق القمر، ونحن مع رسول اللّٰہ صلى اللّٰہ عليه وسلم.

(المعجم الكبير للطبرانی، رقم 1540)

’’ہم سے عباس بن حمدان حنفی بیان کرتے ہیں، اُنھوں نے کہا کہ ہم سے علی بن منذر طریقی بیان کرتے ہیں، اُنھوں نے کہا کہ ہم سے محمد بن فضیل بیان کرتے ہیں، اُن سے حصین بیان کرتے ہیں، اُن سے سالم بن ابی جعد، اُن سے محمد بن جبیر اپنے والد (حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ) کے حوالے سے بیان کرتے ہیں کہ چاند پھٹ گیا اور ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے۔‘‘