2۔ انسان کی جنس سے اُس کے جوڑے کی تشکیل

دوسری نشانی یہ بیان ہوئی ہے کہ اللہ نے انسان کو جوڑے کی صورت میں تخلیق کیا ہے اور اِس کے دونوں اجزا میں باہم محبت و مودت پیدا کی ہے۔ اِس کے لیے ’خَلَقَ لَکُمۡ مِّنۡ اَنۡفُسِکُمۡ اَزۡوَاجًا لِّتَسۡکُنُوۡۤا اِلَیۡہَا وَجَعَلَ بَیۡنَکُمۡ مَّوَدَّۃً وَّ رَحۡمَۃً‘ (اُس نے تمھاری ہی جنس سے تمھارے لیے جوڑے پیدا کیے تاکہ تم اُن کے پاس سکون حاصل کرو اور اِس کے لیے اُس نے تمھارے درمیان محبت اور رحمت پیدا کر دی)کے الفاظ آئے ہیں۔ مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو ایک ہی ساخت پر پیدا نہیں کیا، بلکہ اِسے مرد و عورت کی دو مختلف ساختوں پر پیدا کیا ہے۔ دونوں اپنی روح اور نفس کے لحاظ سے یکساں ہیں، مگر اپنے اعضا و جوارح اور عملی خصائص کے اعتبار سے مختلف اور متنوع پہلوؤں کے حامل ہیں۔ اِس صنفی اختلاف کے باوجود اُن کی ضرورتیں ایک دوسرے سے وابستہ کی ہیں اور آپس میں انس و محبت اور رحم و کرم کے جذبات پیدا کیے ہیں۔ پھر اِن کی توسیع سے خاندان اور معاشرے کو وجود بخشا ہے۔

استاذِ گرامی اِس نشانی کے حوالے سے لکھتے ہیں:

’’یعنی انسان کی صرف ایک صنف نہیں بنائی، بلکہ اُسے دو صنفوں کی صورت میں پیدا کیا اور دونوں کے اندر الگ الگ انفرادی خصوصیات رکھیں، لیکن پھر اُن میں ایسی مناسبت پیدا کر دی کہ دونوں ایک دوسرے سے تسکین و راحت حاصل کرتے ہیں، جس کے لیے محبت و رحمت کا ایسا جذبہ اُن کے اندر ودیعت کر دیا کہ اُنھیں وہ ایک دوسرے کی طرف کھینچ لے جاتا ہے اور زندگی بھر کے لیے ایک دوسرے کا خیرخواہ، ہم درد و غم خوار اور شریکِ رنج و راحت بنا دیتا ہے۔‘‘(البیان 4/52)

امام امین احسن اصلاحی نے اِس آیت کو چار مختلف نشانیوں کے طور پر واضح کیا ہے۔ لکھتے ہیں:

’’اِس کے اندر ایک واضح نشانی تو اِس بات کی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اِس کائنات میں ہر چیز جوڑا جوڑا پیدا کی ہے اور ہر چیز اپنے مقصدِ وجود کی تکمیل اپنے جوڑے کے ساتھ مل کر کرتی ہے۔ اِس سے یہ اشارہ نکلتا ہے کہ اِس دنیا کا بھی ایک جوڑا ہے، جس کو آخرت کہتے ہیں۔ اِسی آخرت سے اِس دنیا کی غایت کی تکمیل ہوتی ہے۔ دوسری نشانی اِس کے اندر یہ ہے کہ ہمارا خالق نہایت مہربان اور محبت کرنے والا ہے۔ اُس نے ہمارے اندر جوڑے کی طلب دی تو ہماری ہی جنس سے ہمارا جوڑا بھی اُس نے پیدا کیا اور پھر دونوں کے اندر محبت و ہم دردی کے جذبات بھی ودیعت فرمائے تاکہ دونوں دو قالب یک جان ہو کر زندگی بسر کریں۔ تیسری نشانی اِس کے اندر یہ ہے کہ اِس کائنات کے اضداد کے اندر نہایت گہرا توافق اور ایک بالاتر مقصد کے لیے نہایت عمیق سازگاری پائی جاتی ہے، جو اِس بات کی نہایت واضح دلیل ہے کہ اِس کا خالق و مالک ایک ہی ہے، جو اپنی حکمت کے تحت اِس کائنات کے اضداد میں توفیق پیدا کرتا ہے۔ چوتھی نشانی اِس کے اندر یہ ہے کہ اِن لوگوں کا خیال بالکل احمقانہ ہے، جو سمجھتے ہیں کہ اِس کائنات کا ارتقا آپ سے آپ ہوا ہے۔ اگر اِس کا ارتقا آپ سے آپ ہوا ہے تو اِس کے اضداد میں یہ حیرت انگیز توافق کہاں سے پیدا ہوا؟ یہ تو اِس بات کی صاف شہادت ہے کہ ایک قادر و حکیم ہستی ہے، جو اِس پورے نظام کو اپنی حکمت کے تحت چلا رہی ہے۔‘‘ (تدبرقرآن6/ 85)