اِن میں پہلی آیت یا نشانی انسان کی خلقت اور اُس کی افزایش نسل کو بتایاہے۔ فرمایا ہے: ’’اور اُس کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ اُس نے تم کو مٹی سے پیدا کیا، پھر دیکھتے دیکھتے تم انسان بن کر پھیل جاتےہو۔‘‘ مطلب یہ ہے کہ اگر انسان اپنی تخلیق پر غور کرے تو اُسے صاف معلوم ہو گا کہ اِس کا وجود مٹی میں پائے جانے والے بے جان عناصر سے تشکیل پایا ہے۔ اللہ نے اِن مردہ ذرات کو زندہ خلیوں میں تبدیل کیا اور پھر اُن کے اندر روح پھونک کر جیتا جاگتا باشعور انسان بنا دیا۔اور فقط اُسے ہی نہیں بنایا، بلکہ اُس کے وجود کو سیکڑوں، ہزاروں، لاکھوں انسانوں کو ظہور میں لانے کا ذریعہ بھی بنا دیا۔
امام امین احسن اصلاحی اِس نشانی کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’یعنی تم کو جن حقائق کے ماننے کی دعوت دی جا رہی ہے، وہ تمام تر تمھارے خالق کی قدرت و حکمت پر مبنی ہیں تو اُس کی قدرت و حکمت کے ثبوت کے لیے تم کسی خارجی دلیل کا مطالبہ کیوں کرتے ہو؟ اِس کی سب سے بڑی دلیل تو خود تمھاری خلقت ہی کے اندر موجود ہے۔ اُس نے تم کو جامد مٹی سے پیدا کیا اور پھر تم زندہ اور عقل و شعور رکھنے والی ہستی بن کر تمام روے زمین پر پھیل گئے۔ . . . یعنی غور کرو، کہاں خشک مٹی اور کہاں جیتا جاگتا انسان، دیکھتے دیکھتے خدا کی قدرت نے اِسی مٹی سے ایک پورا جہان آباد کر دیا!‘‘
(تدبر قرآن 6/84-85)