انسانوں کی بولیوں اور رنگ و نسل کا اختلاف بھی اللہ کی ایک عظیم نشانی ہے۔یہ اختلاف جہاں پہچان اور تعارف کا فائدہ دیتا ہے، وہاں امتحان اور آزمایش کی مختلف صورتوں کا باعث بھی بنتا ہے۔صاحبِ ’’تفہیم القرآن‘‘ مولانا ابوالاعلیٰ مودودی نے زبان و رنگ کے اختلاف کی نشانی کو بہت وضاحت سے سمجھایا ہے۔لکھتے ہیں:
’’یعنی باوجودیکہ تمھارے قواے نطقیہ یکساں ہیں، نہ منہ اور زبان کی ساخت میں کوئی فرق ہے اور نہ دماغ کی ساخت میں، مگر زمین کے مختلف خطوں میں تمھاری زبانیں مختلف ہیں، پھر ایک ہی زبان بولنے والے علاقوں میں شہر شہر اور بستی بستی کی بولیاں مختلف ہیں، اور مزید یہ کہ ہر شخص کا لہجہ اور تلفظ اور طرز ِگفتگو دوسرے سے مختلف ہے، اِسی طرح تمھارا مادۂ تخلیق اور تمھاری بناوٹ کا فارمولا ایک ہی ہے، مگر تمھارے رنگ اِس قدر مختلف ہیں کہ قوم اور قوم تو درکنار، ایک ماں باپ کے دو بیٹوں کا رنگ بھی بالکل یکساں نہیں ہے۔ یہاں نمونے کے طور پر صرف دو ہی چیزوں کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔ لیکن اِسی رخ پر آگے بڑھ کر دیکھیے تو دنیا میں آپ ہر طرف اتنا تنوع (Variety) پائیں گے کہ اِس کا احاطہ مشکل ہوجائے گا۔ انسان، حیوان، نباتات اور دوسری تمام اشیا کی جس نوع کو بھی آپ لے لیں،اُس کے افراد میں بنیادی یکسانی کے باوجود بے شمار اختلافات موجود ہیں، حتیٰ کہ کسی نوع کا بھی کوئی ایک فرد دوسرے سے بالکل مشابہ نہیں ہے، حتیٰ کہ ایک درخت کے دو پتوں میں بھی پوری مشابہت نہیں پائی جاتی۔ یہ چیز صاف بتارہی ہے کہ یہ دنیا کوئی ایسا کارخانہ نہیں ہے، جس میں خودکار مشینیں چل رہی ہوں اور کثیر پیدا آوری (Mass Production) کے طریقے پر ہر قسم کی اشیا کا بس ایک ایک ٹھپہ ہو، جس سے ڈھل ڈھل کر ایک ہی طرح کی چیزیں نکلتی چلی آرہی ہوں۔ بلکہ یہاں ایک ایسا زبردست کاری گر کام کررہا ہے، جو ہر چیز کو پوری انفرادی توجہ کے ساتھ ایک نئے ڈیزائن، نئے نقش و نگار، نئے تناسب اور نئے اوصاف کے ساتھ بناتا ہے اور اُس کی بنائی ہوئی ہر چیز اپنی جگہ منفرد ہے۔ اُس کی قوتِ ایجاد ہر آن، ہر چیز کا ایک نیا ماڈل نکال رہی ہے، اور اُس کی صناعی ایک ڈیزائن کو دوسری مرتبہ دوہرانا اپنے کمال کی توہین سمجھتی ہے۔ اِس حیرت انگیز منظر کو جو شخص بھی آنکھیں کھول کر دیکھے گا، وہ کبھی اِس احمقانہ تصور میں مبتلا نہیں ہوسکتا کہ اِس کائنات کا بنانے والا ایک دفعہ اِس کارخانے کو چلا کر کہیں جا سویا ہے۔ یہ تو اِس بات کا کھلا ثبوت ہے کہ وہ ہر وقت کارِ تخلیق میں لگا ہوا ہے اور اپنی خلق کی ایک ایک چیز پر انفرادی توجہ صرف کر رہا ہے۔‘‘(تفہیم القرآن 3/746-747)