حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا حضرت مریم علیہا السلام کے بطن سے بن باپ کے پیدا ہو نا، اِسی طرح کا خارقِ عادت واقعہ ہے۔یہ اللہ تعالیٰ کے براہ ِراست حکم سے عمل میں آیا ہے۔ اِسی بنا پر اللہ تعالیٰ نے مریم اور ابنِ مریم، دونوں کو آیت قرار دیا ہے۔ سورۂ مومنون میں ارشاد فرمایا ہے:
وَ جَعَلۡنَا ابۡنَ مَرۡیَمَ وَ اُمَّہٗۤ اٰیَۃً....
(23 :50)
’’اور مریم کے بیٹے اور اُس کی ماں کو بھی ہم نے اِسی طرح ایک عظیم نشانی بنایا...۔‘‘
سورۂ انبیاء میں اِن دونوں ہستیوں کو ’اٰیَۃً لِّلۡعٰلَمِیۡنَ‘ (دنیا والوں کے لیے نشانی) کے الفاظ سے تعبیر کیا ہے۔ ارشاد ہے:
وَ الَّتِیۡۤ اَحۡصَنَتۡ فَرۡجَہَا فَنَفَخۡنَا فِیۡہَا مِنۡ رُّوۡحِنَا وَجَعَلۡنٰہَا وَابۡنَہَاۤ اٰیَۃً لِّلۡعٰلَمِیۡنَ. (21: 91)
’’اور اُس خاتون پر بھی جس نے اپنا دامن پاک رکھا تو ہم نے اُس کے اندر اپنی روح پھونک دی اور اُس کو اور اُس کے بیٹے (عیسیٰ) کو دنیا والوں کے لیے ایک نشانی بنا دیا۔‘‘
سورۂ مریم میں یہ واقعہ تفصیل سے بیان ہوا ہے۔ اُس میں اِس اقدام کا مقصد بیان کرتے ہوئے فرمایا ہے: ’وَ لِنَجۡعَلَہٗۤ اٰیَۃً لِّلنَّاسِ وَ رَحۡمَۃً مِّنَّا‘ یعنی مقصد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ مسیح علیہ السلام کو لوگوں کے لیے ایک نشانی اور اپنی طرف سے رحمت بنائیں۔ فرمایا ہے:
وَاذۡکُرۡ فِی الۡکِتٰبِ مَرۡیَمَ ۘ اِذِ انۡتَبَذَتۡ مِنۡ اَہۡلِہَا مَکَانًا شَرۡقِیًّا. فَاتَّخَذَتۡ مِنۡ دُوۡنِہِمۡ حِجَابًا ۪۟ فَاَرۡسَلۡنَاۤ اِلَیۡہَا رُوۡحَنَا فَتَمَثَّلَ لَہَا بَشَرًا سَوِیًّا. قَالَتۡ اِنِّیۡۤ اَعُوۡذُ بِالرَّحۡمٰنِ مِنۡکَ اِنۡ کُنۡتَ تَقِیًّا.
’’(اب) اِس کتاب میں مریم کا ذکر کرو، جب وہ اپنے گھر والوں سے الگ ہو کر (بیت المقدس کے) مشرقی جانب گوشہ نشین ہو گئی تھی۔ اور اپنے آپ کو اُن سے پردے میں کر لیا تھا۔ پھر ہم نے اُس کے پاس اپنا فرشتہ بھیجا اور وہ اُس کے سامنے ایک پورے آدمی کی صورت میں نمودار ہو گیا۔ مریم (نے اُسے دیکھا تو) بول اٹھی کہ میں تم سے خداے رحمٰن کی پناہ میں آتی ہوں، اگر تم اُس سے ڈرنے والے ہو۔
قَالَ اِنَّمَاۤ اَنَا رَسُوۡلُ رَبِّکِ ٭ۖ لِاَہَبَ لَکِ غُلٰمًا زَکِیًّا. قَالَتۡ اَنّٰی یَکُوۡنُ لِیۡ غُلٰمٌ وَّ لَمۡ یَمۡسَسۡنِیۡ بَشَرٌ وَّ لَمۡ اَکُ بَغِیًّا.
اُس نے کہا: میں تمھارے پروردگار ہی کا فرستادہ ہوں اور اِس لیے بھیجا گیا ہوں کہ تمھیں ایک پاکیزہ فرزند عطا کروں۔ مریم نے کہا: میرے ہاں لڑکا کیسے ہوگا، نہ مجھے کسی مرد نے ہاتھ لگایا ہے اور نہ میں کبھی بدکار رہی ہوں!
قَالَ کَذٰلِکِ ۚ قَالَ رَبُّکِ ہُوَ عَلَیَّ ہَیِّنٌ ۚ وَ لِنَجۡعَلَہٗۤ اٰیَۃً لِّلنَّاسِ وَ رَحۡمَۃً مِّنَّا ۚ وَ کَانَ اَمۡرًا مَّقۡضِیًّا. (19: 16-21)
اُس نے کہا: اِسی طرح ہو گا۔ تمھارا پروردگار فرماتا ہے کہ یہ میرے لیے بہت آسان ہے۔ ہم یہ اِس لیے کریں گے کہ وہ ہمارا پیغمبر ہو اور اِس لیے کہ ہم اُس کو لوگوں کے لیے ایک نشانی اور اپنی طرف سے رحمت بنائیں۔ اور یہ بات طے کر دی گئی ہے۔‘‘
اِس تفصیل سے واضح ہے کہ سیدنا مسیح علیہ السلام کی بن باپ کے پیدایش ایک خارقِ عادت واقعہ تھا،جسے اللہ تعالیٰ نے اپنی نشانی کے طور پر ظاہر کیا تھا۔ اِس مقصد کے لیے اللہ تعالیٰ نے پیدایش کے عام قانون سے ہٹ کر اپنا حکم براہِ راست نازل کیا اور اپنے کلمۂ ’کن‘سے بطن مادر میں مولود کا استقرار کیا اور اُس میں اپنی روح پھونک دی۔ یہ اُسی طرح کا حکم تھا،جو اُس نے آدم و حوا کی پیدایش کے لیے نازل کیا تھا۔ یہ نشانی رہتی دنیا تک کے لیے تخلیق انسانی اور اُس کے اعادے کی دلیل کے طور پر نمایاں رہے گی۔ امام امین احسن اصلاحی لکھتے ہیں:
’’حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی خارقِ عادت ولادت قیامت کی بہت بڑی نشانی ہے۔ نادانوں کو قیامت پر سب سے بڑا شبہ یہی تو ہوتا ہے کہ آخر اسباب کے بغیر لوگ کس طرح دوبارہ پیدا ہو جائیں گے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا وجود اِس شبہ کا جواب ہے کہ ہر چیز اللہ کے کلمۂ’ کن‘سے ظہور میں آتی ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اِسی کلمہ سے وجود میں آئے ہیں۔ چنانچہ اِسی بنیاد پر اُن کو انجیل اور قرآن، دونوں میں ’کلمۃ اللہ‘ کہا بھی گیا ہے۔‘‘
(تدبر قرآن 645/4)
سیدنا مسیح علیہ السلام کا گہوارے میں کلام کرنا اِسی آیت کا تسلسل ہے۔ سورۂ مریم ہی میں بیان ہوا ہے کہ اللہ کے حکم سے سیدہ مریم کو حمل ٹھہرا اور وہ اِس کے ساتھ اپنے علاقے سے دور چلی گئیں۔ پھر جب ولادت کا موقع آیا تو اُس وقت اللہ کا فرشتہ آیا، جس نے اُنھیں تسلی دی اور اُن کے لیے چشمہ جاری کیا۔ پھر اُنھیں ہدایت کی کہ وہ نومولود کو لے کر اپنی قوم میں واپس جائیں۔ وہ اگر کوئی سوال یا اعتراض کر یں تو اشارے سے بتا دیں کہ اُنھوں نے چپ رہنے کا روزہ رکھا ہے۔ چنانچہ وہ واپس گئیں۔ بچے کو ساتھ دیکھ کر لوگوں نے اُن کی پاک دامنی پر تہمت لگانی شروع کی تو اُنھوں نے بچے کی طرف اشارہ کیا۔ لوگوں نے کہا کہ ہم اُس سے کیسے پوچھیں، جو نومولود ہے اور بولنے کی عمر کو نہیں پہنچا؟ اِس پر بچے نے بولنا شروع کر دیا۔ قرآنِ مجید کا بیان ہے:
قَالَ اِنِّیۡ عَبۡدُ اللّٰہِ ۟ اٰتٰنِیَ الۡکِتٰبَ وَجَعَلَنِیۡ نَبِیًّا. وَجَعَلَنِي مُبَارَكًا أَيْنَ مَا كُنْتُ وَأَوْصَانِي بِالصَّلَاةِ وَالزَّكَاةِ مَا دُمْتُ حَيًّا. وَّ بَرًّۢا بِوَالِدَتِیۡ ۫ وَ لَمۡ یَجۡعَلۡنِیۡ جَبَّارًا شَقِیًّا.
’’بچہ بول اٹھا: میں اللہ کا بندہ ہوں، اُس نے مجھے کتاب عطا فرمائی اور مجھے نبی بنایا۔ اور جہاں کہیں بھی ہوں، مجھے سرچشمۂ خیر و برکت ٹھیرایا ہے۔ اُس نے مجھے ہدایت فرمائی ہے کہ جب تک میں زندہ رہوں، نماز اور زکوٰۃ کا اہتمام کروں۔ اور مجھے اپنی ماں کا فرماں بردار بنایا ہے، مجھے سرکش اور بدبخت نہیں بنایا۔
وَ السَّلٰمُ عَلَیَّ یَوۡمَ وُلِدۡتُّ وَ یَوۡمَ اَمُوۡتُ وَ یَوۡمَ اُبۡعَثُ حَیًّا. (19: 30-33)
اور مجھ پر سلامتی (کی بشارت) ہے، جس دن میں پیدا ہوا اور جس دن مروں گا اور جس دن زندہ کر کے اٹھایا جاؤں گا۔‘‘
امام امین احسن اصلاحی اِس صورتِ حال پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’جب حضرت مریم علیہا السلام کی آزمایش یہاں تک پہنچ گئی اوروہ ہر مرحلہ میں سو فی صدی کامیاب ثابت ہوئیں تو وقت آ گیا کہ اللہ تعالیٰ اب اپنا اعلان کرا دے کہ وہ اپنے کسی بندے یا بندی کے لیے، جو اُس کے امتحان میں کامیاب ہو جائے، اپنی کیا شانیں دکھاتا ہے۔... حضرت مریم علیہا السلام جس امتحان میں ڈال دی گئی تھیں، اُس سے پوری عزت اور سرخ روئی کے ساتھ عہدہ برآ ہونے کے لیے ضروری تھا کہ گود کا بچہ ہی اُن کی پاک دامنی اور اپنی وجاہت کی شہادت دے تاکہ کسی کے لیے بھی اُس کے بعد لب کشائی کی گنجایش باقی نہ رہے۔‘‘(تدبر قرآن4/647-648)