کتبِ احادیث

قرآنِ مجید کے بعد اب حدیث کے بھی چند حوالے ملاحظہ کر لیجیے:

...أن أبا هريرة، قال: سمعت رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم يقول: ’’لم يبق من النبوة إلا المبشرات‘‘، قالوا: وما المبشرات؟ قال: ’’الرؤيا الصالحة‘‘.(بخاری، رقم 6990)

’’...حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نبوت میں سے صرف مبشرات باقی رہ گئے ہیں۔ لوگوں نے پوچھا: یہ مبشرات کیا ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اچھا خواب۔‘‘

والرؤيا ثلاثة : فرؤيا الصالحة بشرى من اللّٰه، ورؤيا تحزين من الشيطان، ورؤيا مما يحدث المرء نفسه، فإن رأى أحدكم ما يكره فليقم فليصل ولا يحدث بها الناس.

(مسلم، رقم 6042)

’’(رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا): خواب تین طرح کا ہے: ایک نیک خواب، جو اللہ کی طرف سے خوش خبری ہوتا ہے۔ دوسرے رنج و الم کا خواب جو شیطان کی طرف سے ہوتا ہے۔ تیسرے وہ خواب جو اپنے دل کا خیال ہو۔ پھر جب تم میں سے کوئی برا خواب دیکھے تو کھڑا ہو اور نماز پڑھے اور اسے لوگوں سے بیان نہ کرے۔‘‘

عن أبي قتادة، عن النبي صلى اللّٰه عليه وسلم، قال: الرؤيا الصالحة من اللّٰه، والحلم من الشيطان، فإذا حلم فليتعوذ منه، وليبصق عن شماله، فإنها لا تضره.(بخاری، رقم6986)

’’حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اچھا خواب اللہ کی طرف سے ہوتا ہے اور برا خواب شیطان کی طرف سے۔ پس اگر کوئی برا خواب دیکھے تو اُسے اُس سے اللہ کی پناہ مانگنی چاہیے اور بائیں طرف تھوکنا چاہیے۔ پھر یہ خواب اُسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔‘‘

عن عائشة أم المؤمنين، أنها قالت: أول ما بدئ به رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم من الوحي الرؤيا الصالحة في النوم، فكان لا يرى رؤيًا إلا جاءت مثل فلق الصبح.(بخاری، رقم 3)

’’ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کا سلسلہ اچھے خوابوں سے شروع ہوا۔ آپ خواب میں جو کچھ دیکھتے، وہ صبح کی روشنی کی طرح واضح ہوتا۔‘‘

اِسی طرح بے شمار اور احادیث میں یہ لفظ استعمال ہوا ہے اور وہاں اِس کا مطلب حالتِ نیند میں خواب دیکھنا ہی ہے۔ اِس کی نمایاں مثال یہ ہے کہ حدیث کی کتابوں میں محدثین نے جب خوابوں کی روایات کے بارے میں عنوان قائم کیے ہیں تو بیانِ مدعا کے لیے یہی لفظ منتخب کیا ہے۔ صحیح بخاری سے چند مثالیں ملاحظہ کیجیے:

باب رؤيا يوسف(باب: یوسف علیہ السلام کا خواب )۔

باب رؤيا إبراهيم عليه السلام‘ (باب: ابراہیم علیہ السلام کا خواب )۔

باب رؤيا الليْل‘ (باب:رات کے وقت کا خواب )۔

باب الرؤيا بالنهار‘ (باب: دن کے وقت کا خواب)۔

باب رؤيا النساء‘(باب:عورتوں کے خواب )۔

باب ما بدئ به رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم من الوحي الرؤيا الصالحة‘ (باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کی ابتداسچے خواب سےہوئی)۔

باب الرؤيا من اللّٰه‘ (باب: اللہ کی طرف سے دکھایا جانے والا خواب)۔

باب الرؤيا الصالحة جزء من ستة وأربعين جزْءًا من النبوة‘ (باب: اچھا خواب نبوت کے چھیالیس حصوں میں سے ایک حصہ ہے)۔

باب التواطؤ على الرؤيا‘ (باب :خواب کا توارد، یعنی ایک ہی خواب کئی آدمی دیکھیں)۔

باب رؤيا أهل السجون والفساد والشرك‘ (باب: قیدیوں اور اہل شرک و فساد کے خواب کا بیان)۔

عربی لغات اور قرآن و حدیث کے مذکورہ بالا مندرجات سے یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ لفظِ ’رؤیا‘ خواب ہی کے معنی میں معروف ہے۔ یہ درست ہے کہ بعض لغات میں ذیلی یا اضافی معانی کے طور پر’رؤیت عین‘ کے یابیداری میں کوئی منظر دیکھنے کے مجازی معنی درج ہیں اور کلام عرب میں بھی مجاز، استعارے اور کنایے کے اسالیب میں اِس کا استعمال عرف کے مطابق ہے، مگر اِس کے معنی یہ ہر گز نہیں ہیں کہ یہ لفظ اپنے حقیقی اسلوب میں خواب کے علاوہ کسی اور معنی کا بھی احتمال رکھتا ہے۔

یہ زبان و بیان کا عام قاعدہ ہے کہ الفاظ اپنے معروف معنوں ہی میں مستعمل ہوتے ہیں۔ اُنھیں غیر معروف مفہوم میں استعمال کرنا یا شاذ اور اجنبی مفہوم پر قیاس کرنا خلافِ نطق ہے۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ زبان کا وظیفہ ابلاغ ہے اور ابلاغ اُنھی الفاظ و معانی میں ہو سکتا ہے، جن سے مخاطب واقف اور مانوس ہو۔ نادر اور قلیل الاستعمال کلمات و مطالب نہ متکلم کے مدعا کو واضح کرتے ہیں اور نہ مخاطب کے لیے قابل فہم ہوتے ہیں۔ یہ قاعدہ ہر زبان اور ہر کلام سے متعلق ہے۔ جہاں تک قرآنِ مجید کے فہم کا تعلق ہے تو اُس کے معاملے میں اِس قاعدے کو بنیادی اصول کی حیثیت حاصل ہے۔ قرآنِ مجید نے اپنے بارے میں یہ بات خود بیان کر دی ہے کہ وہ ’بِلِسَانٍ عَرَبِیٍّ مُّبِیۡنٍ‘، یعنی صاف اور واضح عربی زبان میں نازل ہوا ہے اور زبان و بیان کے اعتبار سے وہ ’غَیْرَ ذِیْ عِوَجٍ‘ہے، یعنی اُس میں کوئی کجی،کوئی ٹیڑھ، کوئی کم زوری نہیں ہے۔

یہ درست ہے کہ امہاتِ لغت میں معروف اور مستعمل معنی کے علاوہ لغوی، مجازی، اصطلاحی اور شاذ مفاہیم بھی درج کر دیے جاتے ہیں، مگر یہ کام معانی کے تعدد یا اختلاف پر دلالت نہیں کرتا۔ اِس کا مقصد معانی کا احصا اور استقصا ہوتا ہے۔ مولف چاہتا ہے کہ قاری لفظ کے استعمال کی مختلف اور متنوع جہتوں سے آگاہ ہو سکے۔ لہٰذا لغت میں کسی لفظ کے ذیل میں اپنا پسندیدہ معنی دیکھ کر یہ خیال کرنا کہ فلاں کلام کے فلاں جملے میں اِس کا معنی یہی ہے، نطق و زبان کے مسلمات کے خلاف ہے۔

____________