روایتوں کا تجزیہ اورتقابلی جائزہ

درجِ بالا تمام روایتیں قرآنِ مجید کے بیان کی فی الجملہ تائید اور تفصیل کرتی ہیں۔ اِن میں سے کوئی بھی کتاب اللہ کے اصل بیان اور مدعا سے متصادم یا متجاوز نہیں ہے۔ اِن کے متفق علیہ نکات کا خلاصہ یہ ہے :

* شق قمر کا واقعہ ایک حسی واقعہ تھا۔

* یہ واقعہ ہجرتِ مدینہ سے کم و بیش پانچ سال پہلے پیش آیا تھا۔

* اِس کے عینی شاہدین میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، آپ کے صحابۂ کرام اور کفارِ قریش شامل تھے۔

* لوگوں نے بلا امتیازِ مذہب اِسے نسلاً بعد نسلٍ آگے بیان کیا، اِس لیے تاریخی اعتبار سے اِس کی حیثیت خبرِ متواتر کی ہے۔

* واقعہ رات کے ابتدائی مرحلے میں اُس وقت پیش آیا، جب لوگ ابھی جاگ رہے تھے۔

* رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب منیٰ میں موجود تھے۔

* چاند بدرِ کامل کی صورت میں تھا اور واضح نظر آ رہا تھا۔

* چاند پھٹا اور دو ٹکڑے ہو کر الگ ہو گیا۔

* پھر ایک ٹکڑا پہاڑ کے ایک طرف چلا گیا اور دوسرا دوسری طرف چلا گیا۔

* اِس موقع پررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگو، تم گواہ رہنا۔

* کفار نے اِس واقعے کا براہِ راست مشاہدہ کیا، مگر اُنھیں اپنی آنکھوں پر یقین نہ آیا، اِس لیے اُنھوں نے اِسے جادو سے تعبیر کیا۔

* اُنھی میں سے بعض لوگوں نے کہا کہ سفر سے آنے والے لوگوں کا انتظار کرو، کیونکہ اُن پر جادو نہیں ہو سکتا۔

* جب لوگ آئے تو اُنھوں نے بھی اِس واقعے کی شہادت دی۔

* چنانچہ کفار کو اِس واقعے کی حقیقت تسلیم کرنا پڑی۔

* اِس کے باوجود وہ ایمان نہیں لائے۔

شق قمر کی کم و بیش تمام روایتوں میں فی الجملہ یہی نکات مذکور ہیں۔ تاہم، حضرت انس رضی اللہ عنہ کی روایت کے بعض طرق میں اِن کے علاوہ چند مزید باتیں بھی نقل ہوئی ہیں، جو دیگر اصحاب کی روایتوں میں منقول نہیں ہیں۔ یہ طرق درجِ ذیل ہیں:

قمر کی کم و بیش تمام روایتوں میں فی الجملہ یہی نکات مذکور ہیں۔ تاہم، حضرت انس رضی اللہ عنہ کی روایت کے بعض طرق میں اِن کے علاوہ چند مزید باتیں بھی نقل ہوئی ہیں، جو دیگر اصحاب کی روایتوں میں منقول نہیں ہیں۔ یہ طرق درجِ ذیل ہیں:

حدثني عبد اللّٰہ بن عبد الوهاب ، حدثنا بشر بن المفضل ، حدثنا سعيد بن ابي عروبة ، عن قتادة ، عن انس بن مالك رضي اللّٰہ عنه: ان اهل مكة سالوا رسول اللّٰہ صلى اللّٰہ عليه وسلم ان يريهم آيةً، فاراهم القمر شقتين حتى راوا حراءً بينهما.

(بخاری، رقم 3868)

’’مجھ سے عبداللہ بن عبد الوہاب نے بیان کیا، اُنھوں نے کہا کہ ہم سے بشر بن مفضل نے بیان کیا، اُنھوں نے کہا کہ ہم سے سعید بن ابی عروبہ نے بیان کیا، اُن سے قتادہ نے بیان کیا کہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ کفارِ مکہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی نشانی کا مطالبہ کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چاند کے دو ٹکڑے کر کے دکھا دیے۔ یہاں تک کہ اُنھوں نے حرا پہاڑ کو اُن دونوں ٹکڑوں کے بیچ میں دیکھا۔‘‘

‏‏‏‏حدثني زهير بن حرب ، وعبد بن حميد ، قالا: حدثنا يونس بن محمد ، حدثنا شيبان ، حدثنا قتادة ، عن انس ان اهل مكة سالوا رسول اللّٰہ صلى اللّٰہ عليه وسلم ان يريهم آيةً فاراهم انشقاق القمر مرتين.

(مسلم، رقم 7254)

’’مجھ سے زہير بن حرب اور عبد بن حميد نے بیان کیا، اُنھوں نے کہا کہ ہم سے يونس بن محمد نے بیان کیا ، اُنھوں نے کہا کہ ہم سے شيبان نے بیان کیا، اُنھوں نے کہا کہ ہم سے قتادہ نے بیان کیا کہ ‏‏‏‏ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مکہ والوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی نشانی چاہی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کو دو بار چاند کا پھٹنا دکھایا۔‘‘

اِن طرق میں درجِ ذیل تین اضافی باتیں نقل ہوئی ہیں:

1۔ شق قمر کا واقعہ دو مرتبہ پیش آیا۔

2۔ یہ کفار کے مطالبۂ نشانی کے جواب میں واقع ہوا۔

3۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُنھیں چاند کا دو ٹکڑے ہونا دکھا دیا۔

یہ تینوں نکات امکانِ وقوع کے لحاظ سے بعید از قیاس نہیں ہیں۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ کی قدرت سے چاند ایک بار شق ہو سکتا ہے تو ایک سے زیادہ مرتبہ بھی ہو سکتا ہے۔ اِسی طرح اللہ اگر اقوام سابق کے مطالباتِ نشانی کے جواب میں کوئی نشانی بھیج سکتا ہے تو یہ معاملہ قریش کے ساتھ بھی ممکن ہے۔ مزید برآں، یہ کہ اگر اللہ اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو متعدد دیگر معجزے عطا فرما سکتا ہے تو شق قمر کو بھی آپ کے ذریعے سے ظاہر کرنا خلافِ توقع نہیں ہے۔ تاہم، اِس کے باوجود بیش تر محدثین اور مفسرین نے اِن اضافوں کو قبول نہیں کیا۔

اِس ضمن میں اُن کے دلائل کا خلاصہ یہ ہے:

1۔ اِس واقعے کے وقوع کے موقع پر حضرت انس رضی اللہ عنہ چار پانچ سال کے کم سن تھے اور مدینہ میں رہتے تھے۔ اِس سے واضح ہے کہ اُنھوں نے اِس واقعے کا براہِ راست مشاہدہ نہیں کیا۔ مزید یہ کہ جن شخصیات سے اُنھوں نے واقعے کو سنا، اُن کا ذکر روایت میں نہیں ہے۔ اِس لیے قرین قیاس یہی ہے کہ اُنھوں نے اِسے اپنے زمانے کی ایک مشہور و معروف خبر کے طور پر سنا اور نقل کیا ہے۔ اِس بنا پر ضروری ہے کہ اِس معاملے میں اصل خبر کی حیثیت واقعے کے عینی شاہد حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی روایت کو دی جائے اور حضرت انس رضی اللہ عنہ کی روایتوں کے فقط اُنھی اجزا کو قبول کیا جائے، جو ابنِ مسعود رضی اللہ عنہ اور دیگر عینی شاہدین کی روایات سے مطابقت رکھتے ہیں۔

2۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ کی روایت میں ’مرتین‘ کے الفاظ آئے ہیں۔ جن کا مطلب یہ ہے کہ یہ واقعہ دو مرتبہ پیش آیا ہے۔ یہ ایک بالکل منفرد بات ہے۔ قرآنِ مجید کے الفاظ بھی اِس مفہوم کی گنجایش نہیں دیتے۔ وہ انشقاق القمر کے واحد وقوع پر دلالت کرتے ہیں۔ قرین قیاس یہی ہے کہ بعد کے بعض راویوں نے غلط فہمی سے ’فرقتین‘ یا ’فلقتین‘ (دو ٹکڑے)کو ’مرتین‘ (دو بار) سمجھ کر نقل کر دیا ہے۔ یہ غلطی مذکورہ روایت کے ضعف کی طرف اشارہ کرتی ہے۔

3۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی بعض طرق میں کفار کی طرف سے نشانی کےمطالبے کا ذکر نہیں ہے اور بعض طرق میں ’مرتین‘ کے بجاے درست لفظ ’فرقتین‘ استعمال ہوا ہے۔ یہ بات بھی اِس امر کا امکان پیدا کرتی ہے کہ اِس طرح کے الفاظ بعد کے راویوں کے اضافے ہیں۔

ان دلائل کے حوالے سے حدیث و تفسیر کے چند علما کے اقتباسات درجِ ذیل ہیں:

’’المواہب اللدنیہ‘‘ میں علامہ احمد بن محمد قسطلانی لکھتے ہیں:

فأما أنس وابن عباس فلم يحضرا ذلك، لأنه كان بمكة قبل الهجرة بنحو خمس سنين، وكان ابن عباس إذ ذاك لم يولد، وأما أنس فكان ابن أربع سنين أو خمس بالمدينة.

(2/254)

’’جہاں تک حضرت انس رضی اللہ عنہ اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کا تعلق ہے تو وہ اِس واقعہ کے وقت موجود نہ تھے، کیونکہ یہ واقعہ مکہ مکرمہ میں ہجرت سے تقریباً پانچ سال پہلے ہوا اور حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہ ابھی پیدا بھی نہیں ہوئے تھے۔ اور حضرت انس رضی اللہ عنہ اُس وقت چار پانچ سال کے تھے اور مدینہ طیبہ میں تھے۔‘‘

امام ابنِ حجر عسقلانی نے ’’ فتح الباری‘‘ میں لکھا ہے:

لان أنسًا لم يدرك هذه القصة وقد جاءت هذه القصة من حديث بن عباس وهو أيضًا ممن لم يشاهدها ومن حديث بن مسعود وجبير بن مطعم وحذيفة وهؤلاء شاهدوها ولم ار في شيء من طرقه ان ذلك كان عقب سؤال المشركين الا في حديث أنس ثم وجدت في بعض طرق حديث بن عباس.(7/ 182)

’’حضرت انس رضی اللہ عنہ نے اِس واقعے کا مشاہدہ نہیں کیا، اور حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہ جن سے یہ واقعہ منقول ہے، اُنھوں نے بھی اِس کا مشاہدہ نہیں کیا۔ حضرت عبداللہ بن مسعود، حضرت جبیر بن مطعم اور حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہم جو اِس واقعے کے عینی شاہد ہیں، اُن کی روایتوں میں اِس طرح کی بات نہیں ہے کہ یہ واقعہ مشرکین کے مطالبے کے جواب میں تھا۔ یہ بات صرف حضرت انس رضی اللہ عنہ کی روایت میں مذکور ہے یا حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہ کے بعض طرق میں نقل ہوئی ہے۔‘‘

وہ مزید لکھتے ہیں:

ولااعرف من جزم من علماء الحديث بتعدد الانشقاق في زمنه صلى اللّٰہ عليه و سلم، … وهذا مما يعلم أهل الحديث والسير انه غلط فإنه لم يقع الا مرةً واحدةً.

(7/183)

’’میں نہیں جانتا کہ علماے حدیث میں سے کوئی اِس کا قائل ہوا ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں چاند کے شق ہونے کا واقعہ متعدد بار ہوا...اور اہل حدیث اور اہل سیر کے نزدیک یہ بات غلط ہے۔ پس حقیقت یہ ہے کہ شق قمر کا واقعہ فقط ایک مرتبہ ہوا ہے۔‘‘

حافظ ابنِ حجر کی اِسی بات کا خلاصہ کرتے ہوئے علامہ قسطلانی نے لکھا ہے:

ولعل قائل ’مرتین‘ أرادا : فرقتين. وهذا الذى لا يتجه غيره جمعًا بين الروايات.

(المواہب اللدنيہ 2/256)

’’اور ممکن ہے کہ ’مرتین‘ کہنے والوں کا مطلب ’فرقتین‘ ہو۔ مختلف روایات کو صرف اِسی طرح جمع کیا جا سکتا ہے۔‘‘

مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی نے اِن نکات کو بالتفصیل بیان کیا ہے۔ ’’تفہیم القرآن‘‘ میں ہے:

’’بعض روایات جو حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہیں، اُن کی بنا پر یہ غلط فہمی پیدا ہوتی ہے کہ شق القمر کا واقعہ ایک مرتبہ نہیں، بلکہ دو مرتبہ پیش آیا تھا۔ لیکن اول تو صحابہ میں سے کسی اور نے یہ بات بیان نہیں کی ہے۔ دوسرے خود حضرت انس کی بھی بعض روایات میں مرتین(دو مرتبہ) کے الفاظ ہیں اور بعض میں ’فرقتین‘ اور ’شقتین‘ (دو ٹکڑے ) کے الفاظ۔ تیسرے یہ کہ قرآنِ مجید صرف ایک ہی انشقاق کا ذکر کرتا ہے۔ اِس بنا پر صحیح بات یہی ہے کہ یہ واقعہ صرف ایک مرتبہ پیش آیا تھا۔ رہے وہ قصے جو عوام میں مشہور ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انگلی سے چاند کی طرف اشارہ کیا اور وہ دو ٹکڑے ہو گیا اور یہ کہ چاند کا ایک ٹکڑا حضورکے گریبان میں داخل ہو کر آپ کی آستین سے نکل گیا، تو یہ بالکل ہی بے اصل ہیں۔

یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اِس واقعہ کی حقیقی نوعیت کیا تھی؟ کیا یہ ایک معجزہ تھا، جو کفارِ مکہ کے مطالبہ پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنی رسالت کے ثبوت میں دکھایا تھا ؟ یا یہ ایک حادثہ تھا،جو اللہ تعالیٰ کی قدرت سے چاند میں پیش آیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے لوگوں کو اِس کی طرف توجہ صرف اِس غرض کے لیے دلائی کہ یہ امکانِ قیامت اور قربِ قیامت کی ایک نشانی ہے؟ علما ےاسلام کا ایک بڑا گروہ اِسے حضور کے معجزات میں شمار کرتا ہے اور اُن کا خیال یہ ہے کہ کفار کے مطالبہ پر یہ معجزہ دکھایا گیا تھا۔ لیکن اِس راے کا مدار صر ف بعض اُن روایات پر ہے، جو حضرت انس سے مروی ہیں۔ اُن کے سوا کسی صحابی نے بھی یہ بات بیان نہیں کی ہے۔ فتح الباری میں ابنِ حجر کہتے ہیں کہ ’’ یہ قصہ جتنے طریقوں سے منقول ہوا ہے، اُن میں سے کسی میں بھی حضرت انس کی حدیث کے سوا یہ مضمون میری نگاہ سے نہیں گزرا کہ شق القمر کا واقعہ مشرکین کے مطالبہ پر ہوا تھا۔ ‘‘ (باب انشقاق القمر)۔ ایک روایت ابو نعیم اصفہانی نے ’’دلائل النبوۃ‘‘ میں حضرت عبداللہ بن عباس سے بھی اِس مضمون کی نقل کی ہے، مگر اُس کی سند ضعیف ہے، اور قوی سندوں سے جتنی روایات کتبِ حدیث میں ابنِ عباس سے منقول ہوئی ہیں، اُن میں سے کسی میں بھی اِس کا ذکر نہیں ہے۔ علاوہ بریں حضرت انس اور حضرت عبداللہ بن عباس، دونوں اِس واقعہ کے ہم عصر نہیں ہیں۔ بخلاف اِس کے جو صحابہ اُس زمانے میں موجود تھے، حضرت عبداللہ بن مسعود،حضرت حذیفہ، حضرت جبیربن مطعم، حضرت علی، حضرت عبداللہ بن عمر، اُن میں سے کسی نے بھی یہ نہیں کہا ہے کہ مشرکین مکہ نے حضور کی صداقت کے ثبوت میں کسی نشانی کا مطالبہ کیا تھا اور اِس پر شق القمر کا یہ معجزہ اُن کو دکھایا گیا۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ قرآنِ مجید خود بھی اِس واقعہ کو رسالت محمدی کی نہیں، بلکہ قربِ قیامت کی نشانی کے طور پر پیش کر رہا ہے۔ البتہ، یہ اِس لحاظ سے حضور کی صداقت کا ایک نمایاں ثبوت ضرور تھا کہ آپ نے قیامت کے آنے کی جو خبریں لوگوں کو دی تھیں، یہ واقعہ اُن کی تصدیق کر رہا تھا۔‘‘(5/ 229-230)

____________