3۔ زمین اور آسمانوں کی تخلیق

زمین اور آسمانوں کی پیدایش اور انسانوں کی زبانوں اور رنگوں کےاختلاف کو بھی اللہ کی نشانیاں قرار دیا ہے۔ اِس کے لیے ’ خَلۡقُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ‘ کے الفاظ آئے ہیں۔ یعنی زمین اور آسمانوں کی تخلیق بھی اُس کی نشانیوں میں سے ہے۔ اِس میں علم والوں کے لیے، یقیناً بہت سی نشانیاں ہیں۔ مراد یہ ہے کہ انسان کی تخلیق کی طرح کائنات کی تخلیق بھی اللہ کی معرفت کی عظیم نشانی ہے۔ یعنی جب وہ سر جھکا کر اپنے وجود پر نظر ڈالتا ہے تو اُسے یہ محدود سا وجود اللہ کی کرشمہ سازیوں کا مظہر دکھائی دیتا ہے اور جب وہ سر اٹھا کر اپنے گرد و پیش کا نظارہ کرنا چاہتا اور آسمان کی وسعتوں پر نظر ڈالتاہے تو اُس کی نظر تھک کر واپس لوٹ آتی ہے۔ اُسے اندازہ ہوتا ہے کہ زمین کے دفینے اور آسمان کی وسعتیں اُس کے شعور سے بلند اور تصورات سے ماورا ہیں۔ امام امین احسن اصلاحی آسمانوں اور زمین کی نشانی کے حوالے سے لکھتے ہیں:

’’اگر لوگ غور کریں تو اُن کو یہ چیز صاف نظر آئے گی کہ اِس کائنات میں کثرت کے اندر وحدت مضمر ہے۔ ایک طرف آسمانوں کی ایک وسیع اور ناپیدا کنار کائنات ہے اور دوسری طرف یہ کرۂ زمین ہے۔ بہ ظاہر دونوں میں کتنی دوری ہے، لیکن اِس دوری کے باوجود دونوں میں اتنا گہرا اتصال ہے کہ کوئی عاقل یہ تصور نہیں کر سکتا کہ دونوں الگ الگ خالقوں کی قدرت سے وجود میں آئے اور الگ الگ ارادوں کے تحت گردش کر رہے ہیں، بلکہ اِن کی باہمی سازگاری پکار پکار کر شہادت دے رہی ہے کہ ایک ہی قدیر و حکیم دونوں پر متصرف ہے اور دونوں کو ایک مشترک مقصد کے لیے مسخر کیے ہوئے ہے۔‘‘

(تدبرقرآن6/ 86)