7۔ زمین و آسمان کا قیام و دوام

زمین و آسمان کا قیام و استحکام بھی آیاتِ الٰہی میں سے ہے۔ یہ اللہ کے حکم سے قائم و دائم ہیں۔ اُس کا حکم ہو گا تو اِن کی بساط لپیٹ دی جائے گی۔ پھر جب وہ انسانوں کو زمین سے نکلنے کا حکم دے گا تو انسانوں کے پاس سرتابی کی کوئی گنجایش نہیں ہو گی۔ اُن کا وجود آپ سے آپ اُس کی آواز پر لبیک کہہ اٹھے گا۔ نہ آسمان پروردگار کی ندا کو انسانوں تک پہنچنے سے روک پائے گا اور نہ زمین اپنے اندر سے اُن کے نکلنے پر رکاوٹ ڈال سکے گی۔

’تَقُوۡمَ السَّمَآءُ وَالۡاَرۡضُ بِاَمۡرِہٖ‘(زمین و آسمان اُسی کے حکم سے قائم ہیں) کے حوالے سے استاذ ِگرامی لکھتے ہیں:

’’اِس کے لیے کسی استدلال کی ضرورت نہیں ہے، اِس لیے کہ تم اگر سن سکو تو اتھاہ خلاؤں میں گردش کرتے ہوئے نجوم و کواکب اور سورج اور چاند اور تمھاری یہ زمین، سب بول کر بتا رہے ہیں کہ وہ کسی قائم رکھنے والے کی قدرت سے قائم ہیں اور کسی چلانے والے کے زور سے چل رہے ہیں۔‘‘(البیان 4/55)

’ثُمَّ اِذَا دَعَاکُمۡ دَعۡوَۃً مِّنَ الۡاَرۡضِ اِذَاۤ اَنۡتُمۡ تَخۡرُجُوۡنَ‘ (پھر جب وہ زمین سے نکلنے کے لیے تم کو ایک ہی بار پکارے گا تو سنتے ہی نکل پڑوگے) کے ٹکڑے پر استاذِ گرامی کا حاشیہ ہے:

’’یعنی دوسری مرتبہ پکارنے کی ضرورت بھی پیش نہیں آئے گی۔ زمین و آسمان کے قیام و استحکام میں خدا کی قدرت و حکمت کا اظہار جس حیرت انگیز طریقے سے اور جس اعلیٰ سطح پر دیکھ رہے ہو، وہ یہ بتانے کے لیے کافی ہے کہ وہ اگرایک ہی پکارپکار دے تو ممکن نہیں ہے کہ زمین اُس کے حکم سے سر تابی کی جسارت کرے یا آسمان اُس سے سرِمو انحراف کر سکے۔ ‘‘ (البیان 4/55-56)

سورۂ روم میں اِس بیان کے خاتمۂ کلام کے طور پر فرمایا ہے کہ فقط مذکورہ اشیا اور معاملات ہی نہیں، بلکہ زمین اور آسمانوں میں جو کچھ بھی ہے، سب پر اللہ کا حکم قائم ہے۔ کوئی واقعہ اُس کے اذن کے بغیر رونما نہیں ہوتا۔ ہر چیز میں، ہر معاملے میں، ہر واقعے میں اُس کی صفات کی نشانیاں نمایاں ہیں، جو انسان کو آگاہ کرتی ہیں کہ وہی ہے، جس نے خلقت کی ابتدا کی ہے اور وہی اِس کا اعادہ کرے گا۔ اِس لیے انسان کو اِس کے دائرۂ قدرت سے فرار کی راہ نہیں ڈھونڈنی چاہیے۔ وہ زبردست بھی ہے اور حکمت والا بھی ہے۔ ارشاد ہے:

وَ لَہٗ مَنۡ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ کُلٌّ لَّہٗ قٰنِتُوۡنَ. وَہُوَ الَّذِیۡ یَبۡدَؤُا الۡخَلۡقَ ثُمَّ یُعِیۡدُہٗ وَ ہُوَ اَہۡوَنُ عَلَیۡہِ ؕ وَ لَہُ الۡمَثَلُ الۡاَعۡلٰی فِی السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ۚ وَ ہُوَ الۡعَزِیۡزُ الۡحَکِیۡمُ . (الروم 30: 26-27)

’’زمین اور آسمانوں میں جو بھی ہیں، اُسی کے ہیں، سب اُسی کے فرماں بردار ہیں۔وہی ہے، جو خلق کی ابتدا کرتا ہے، پھر وہی اُسے دوبارہ پیدا کرے گا اور یہ اُس کے لیے زیادہ آسان ہے۔ زمین اور آسمانوں میں سب سے بالاتر صفت اُسی کی ہے اور وہی عزیز و حکیم ہے۔‘‘

امام امین احسن اصلاحی نے اِس مقام کی تفسیر میں لکھا ہے:

’’فرمایا کہ وہی ہے، جو خلق کا آغاز کرتا ہے، پھر وہی اُس کا اعادہ کرے گا اور یہ اعادہ تم سوچو تو اُس کے لیے زیادہ آسان ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جب تم اِس حقیقت کو تسلیم کرتے ہو کہ اُسی نے خلق کو وجود بخشا ہے تو اُس کے دوبارہ پیدا کیے جانے کو کیوں مستبعد خیال کرتے ہو؟ پہلا کام زیادہ مشکل ہے یا یہ دوسرا؟ . . . فرمایا کہ آسمانوں اور زمین میں تمام اعلیٰ صفتوں کا اصلی حق دار وہی ہے، کوئی دوسرا اُن صفات میں اُس کا شریک و سہیم نہیں ہے۔ اِس کے بعد خاص طور پر اپنی دو صفتوں ــــ عزیز و حکیم ــــ کا حوالہ دیا کہ وہ ہر چیز پر غالب، سب سے بالاتر، اور اُس کے ہر کام میں حکمت ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اُس کے لیے کوئی کام بھی مشکل نہیں، اُس کے ارادے میں اِس کی حکمت کے سوا اور کوئی چیز بھی دخیل نہیں، اور اِس ساری کائنات میں کوئی نہیں، جو اُس کی صفات میں برابری کر سکے۔ اِس سے یہ بات لازمی نتیجہ کے طور پر آپ سے آپ نکل آئی کہ جب صفات میں کوئی اُس کی برابری کا نہیں تو اُس کے حقوق میں بھی کوئی اُس کی برابری کا نہیں قرار دیا جا سکتا۔‘‘

(تدبرقرآن6/ 89)

____________